جنگ بندی کے بعد ایران کی کرپٹو حکمت عملی، 7.8 ارب ڈالر معیشت کو نئی
سمت
آبنائے ہرمز میں کرپٹو فیس کی تجویز، پابندیوں سے بچنے اور متبادل
مالیاتی نظام کی تلاش
جمعہ، 10 اپریل 2026
رپورٹ جستجو نیوز
تہران
/ واشنگٹن
جنگ بندی کے بعد ایران کی ڈیجیٹل معیشت ایک نئے مرحلے
میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں کرپٹو کرنسی کو نہ صرف داخلی لین دین بلکہ
بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی ایک متبادل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی
اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر
ٹرانزٹ فیس کرپٹو کرنسی میں وصول کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد
عالمی پابندیوں اور مالیاتی نگرانی کے نظام سے بچنا ہے۔
رپورٹ
میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام نے ایران کی تقریباً 7.8 ارب ڈالرز پر مشتمل کرپٹو
معیشت کو نئی اہمیت دے دی ہے اور ان ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے جو
روایتی مالیاتی نظام سے باہر متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ایران
کی آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے والی یونین کے ترجمان حمید حسینی
کے مطابق ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے ٹینکروں سے فی بیرل ایک ڈالر کے
حساب سے فیس وصول کر رہا ہے، اور اس ادائیگی کو کرپٹو کرنسی میں منتقل کرنے کی
خواہش رکھتا ہے۔
ان
کے مطابق کرپٹو ادائیگیوں کا مقصد نہ صرف پابندیوں کے باعث ممکنہ ضبطی سے بچنا ہے
بلکہ مالیاتی لین دین کو عالمی نگرانی سے بھی دور رکھنا ہے۔
میڈیا
رپورٹس کے مطابق ایران کی سیکیورٹی اسٹرکچرز، بشمول پاسدارانِ انقلاب، پہلے ہی
کرپٹو کرنسی کو مختلف تجارتی اور اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے
اس شعبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
بین
الاقوامی تجزیہ کار ادارے Chainalysis کے
مطابق ایران کی کرپٹو سرگرمیوں کا بڑا حصہ انہی مقاصد سے منسلک ہے، جبکہ رپورٹ میں
یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے مرکزی بینک نے کم از کم 507 ملین ڈالرز
مالیت کی Tether بھی حاصل کر رکھی ہے۔
ماہرین
کے مطابق ایران کی یہ حکمت عملی نہ صرف عالمی مالیاتی نظام کے لیے ایک چیلنج بن
سکتی ہے بلکہ مستقبل میں کرپٹو کرنسی کے جغرافیائی و سیاسی استعمال کے نئے رجحانات
کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
.png)
0 Comments