ذیابیطس کے مریضوں کے ذہنوں میں یہ ابہام پایا جاتا ہے کہ کیا وہ روزہ رکھنے سے معذور تو نہیں اور کیا روزے کی حالت میں طبیعت کے بگڑنے کا اندیشہ تو نہیں۔جبکہ طب ہمیں مکمل سائنسی رہنمائی کرتی ہے۔شوگر کے بعض مریضروزہ رکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ موٹاپے، بلڈ پریشر اور ذیابیطس تینوں امراض میں جسم کے لئے ڈھال بنتا ہے
رمضان کے تیس روزے جسمانی اور نفسیاتی صحت بحال کر دیتے ہیں اور چند ہی روز میں جسم اپنی طبعی حالت میں لوٹ آتا ہے۔مریضوں کی بڑی تعداد اور گلوکوز کے میٹابولزم میں تبدیلی سے خوفزدہ نظر آتی ہے۔عام طور پر فزیشن شوگر کے مریضوں کو خاص ہدایات دیتے ہیں، مثلاً:
پہلا گروپ: ایسے افراد کی فاسٹنگ بلڈ شوگر کی سطح (100 ایم جی ڈی ایل) ہونی چاہئے اور کھانے کے بعد 160 تک ہو۔
دوسرا گروپ: ایسے مریض جنہیں خون یا Urine میں شکر کی سطح متوازن رکھنے کے لئے ہر روز یا دوسرے تیسرے روز دوا کھانی پڑتی ہے۔
تیسرا گروپ: ایسے افراد جو انسولین پر انحصار کرتے ہوں انہیں پابندی سے شوگر چیک کرانی چاہئے۔
ایسے افراد جو ورزش پابندی سے کرتے ہوں اور اپنے خون میں موجود شکر کی سطح کی جانچ کرتے رہتے ہوں۔یہ تمام افراد اپنی ادویات کی خوراک اور وقت کا تعین کر کے روزہ رکھیں تو بہتر ہے۔
ممکن ہے کہ دوا کی کچھ مقدار سحری اور پھر کچھ افطار کے وقت تقسیم کر دی جائے۔ایک مکمل Dose کے دو حصے کئے جا سکتے ہیں۔شام کی خوراک سحری میں استعمال کروائی جا سکتی ہے۔دوا لینے والے مریضوں کو خاص ہدایت کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر سے مشورے کے بعد روزہ رکھیں۔آپ کے لئے بہتر ہے کہ رمضان شروع ہونے سے دو ہفتے قبل دوا کی خوراک اور شکر کی جانچ کروا لیں۔
تیسرے گروپ کے افراد روزہ نہ رکھیں تو بہتر ہے یہ ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی صحت کا دار و مدار انسولین پر ہوتا ہے۔ان کی شکر صرف اسی طرح کنٹرول میں رہ سکتی ہے۔
ایسے مریض جنہیں Diabetic Nephropathy یعنی گردے کے امراض لاحق ہوں یا جن کا جگر متاثر ہو، وہ کسی درجے کے ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہوں۔
تفکرات، اوہام یا کسی پریشانی میں مبتلا ہوئے بغیر ان مریضوں کو اپنی شوگر خود مانیٹر کرنی چاہئے۔خاص کر بلڈ شوگر Low ہونے کی علامتوں کو مدِ نظر رکھنا چاہئے۔سحری سے پہلے یا دو گھنٹے بعد اس کی جانچ کر لینی چاہئے۔خاص کر Hypoglycaemia ایسی علامت ہے، جس میں مریض کی بھوک شدت سے بڑھتی ہے۔بینائی میں دھندلاہٹ آتی ہے۔سر درد، منتشر الخیالی، اختلاجِ قلب یا دل کی دھڑکن کا بے ربط ہونا، پسینے کا حد زیادہ اخراج ایسی بنیادی علامتیں ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔
خطرے کی گھنٹی اُسی وقت بجتی ہے جب شکر کی سطح (100 ایم جی ڈی ایل) سے بہت نیچے گرتی ہے تب ایسے مریض کو روزہ توڑنا پڑتا ہے۔اگر آپ نے رمضان آنے سے قبل اپنا طبی معائنہ کرا لیا ہو اور ڈاکٹر آپ کو روزہ رکھنے کے اہل قرار دے چکے ہوں تو یہ نوبت نہیں آتی نہ ہی صحت کے مسائل پیچیدگی اختیار کرتے ہیں۔
اکثر پوچھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک میں کیسی غذا لینی چاہئے۔
طبی نقطہ نظر سے کھانے میں تمام غذائی گروپ ہونے چاہئیں، مثلاً سبزیاں، روٹی، دلیہ، آلو، دودھ، دہی اور پھل۔پروٹین کی مد میں گوشت، مچھلی، انڈے اور اولیو آئل ضرور لیں، اسے ترک کرنا قطعاً مفید نہیں ہوتا۔پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی ضرور لئے جائیں یہ نشاستے والی غذائیں جن میں روٹی، چاول، دالیں، چنے، لوبیا، سویابین اور بھوسی والا آٹا شامل ہے۔
آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہے۔اگر آپ نے اپنے دسترخوان پر ڈیپ فرائیڈ آئٹمز کے ساتھ ساتھ مٹر، لوبیا اور چنے یا بیک کی ہوئی اشیاء بھی رکھیں تو متوازن غذا مل سکے گی۔ہمارے نبی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کا حریسا، حلی، شوربے والا سالن اور عصید گوشت کا سالن کھایا کرتے تھے۔ذیابیطس کے مریض اسلوبِ زندگی بدل دیں اور غذا سے بیماری کنٹرول کر سکیں تو روزے رکھ سکتے ہیں۔
وہ مریض جو انسولین یا موروثی ادویہ پر ہوں ان کے لئے روزہ دشوار ہو سکتا ہے۔ان مریضوں کو رخصت کی اجازت ہے۔
بلڈ پریشر کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں، سحری اور عشاء کے وقت دوائیں لے کر اپنا خیال رکھ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ رمضان المبارک میں باورچی خانے کا خرچہ یعنی اخراجات حد سے تجاوز نہ ہونے پائیں ورنہ آپ کا وزن بھی بڑھ سکتا ہے۔روزے کے دوران دل کے پٹھوں کو آرام ملتا ہے اور خلیات کے درمیان Intercellular مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے ٹشوز یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔
یہ دباؤ ڈایاسٹولک دل کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔روزے کی حالت میں یہ پریشر کم ہوتا ہے، لہٰذا دل آرام و سکون محسوس کرتا ہے۔روزے کی بدولت مفید قلب چکنائیاں جنہیں HDL کہا جاتا ہے اس کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور مضرِ قلب چکنائیوں یعنی LDL کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے اور شریانوں میں خون کی روانی نارمل رہتی ہے۔رات کے کھانے کو پُرتکلف نہیں بنانا چاہئے یعنی گوشت، دودھ، دہی اور مچھلی کم مقدار میں کھائیں۔
یاد رکھیں کہ جسم میں کولیسٹرول رات کے وقت بنتا ہے جو دل کے امراض کا سبب بن سکتا ہے۔پابندی کسی چیز کی نہیں لیکن کم مقدار میں کھائیں اور پانی پینے کی گنجائش ضرور رکھیں۔
غذا کا انتخاب ہی اصل میں ایسا ہدف ہے جس تک پہنچنا ضروری ہے۔اصل میں ہماری کھانے کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے جسمانی عارضے لاحق ہوتے ہیں۔شوگر کے مریضوں کو روایتی طرز کی سحری سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
وہ سحری میں کھجلہ، پھینی، پراٹھے اور انڈے نہ کھائیں تو بہتر ہے۔روایتی قورمے یا شوربے والے سالن کے ساتھ لال آٹے (بغیر چھنے ہوئے آٹے) کی دو چپاتیاں یا ڈبل روٹی کے دو سلائسز لے سکتے ہیں۔ایک گلاس بالائی اُترا ہوا دودھ لینا ضروری ہے۔یہ نہ لے سکیں تو ایک پھل ضرور کھا لیں۔ٹھہر ٹھہر کر چند گلاس پانی پی لیں لیکن کبھی بھی ایک ساتھ چار پانچ گلاس نہ پئیں۔افطار کے وقت بھی جدید طرزِ فکر کی حامل غذائیں لیں، مثلاً کم مصالحوں والی لیکن شکر کا اضافی استعمال نہ کریں۔اپنی کیلوریز کو نہ بڑھنے دیں۔ہمیشہ اپنے فزیشن سے مشورہ کرتے رہیں اور محتاط انداز سے رمضان گزاریں۔
0 Comments