ہیڈ لائنز

ایران جنگ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور حساس ادارے کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دیدیا

 





 
ایران جنگ پر اختلاف، امریکی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر مستعفی  
جو کینٹ کا ضمیر کی بنیاد پر فیصلہ، ایران کے خلاف جنگی پالیسی سے لاتعلقی کا اعلان، امریکی پالیسی حلقوں میں ہلچل

بدھ، 18 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

واشنگٹن سے موصول اطلاعات کے مطابق امریکا کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد امریکی سکیورٹی اور پالیسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جو کینٹ نے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شمولیت سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف جا کر کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتے جسے وہ غیر ضروری اور نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی طویل جنگیں نہ صرف امریکی فوجیوں کی جانوں کے لیے خطرہ بنتی ہیں بلکہ ملک کی معیشت اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کسی حکمت عملی کی حمایت نہیں کر سکتے جو امریکا کو ایک اور طویل اور غیر یقینی تنازع میں دھکیل دے۔

جو کینٹ نے مزید کہا کہ وہ ان خارجہ پالیسی اصولوں کے حامی رہے ہیں جو سابق انتخابی مہمات اور ابتدائی حکومتی ادوار میں پیش کیے گئے تھے، تاہم موجودہ ایران جنگ ان اصولوں سے متصادم نظر آتی ہے، اسی لیے انہوں نے خود کو اس پالیسی سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا کو فوری نوعیت کا کوئی براہ راست خطرہ درپیش نہیں تھا، اور موجودہ کشیدگی میں بعض بین الاقوامی دباؤ عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ جو کینٹ کو اس عہدے کے لیے 2025 میں نامزد کیا گیا تھا اور وہ ایک تجربہ کار فوجی افسر کے طور پر متعدد بار جنگی محاذوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ذاتی سطح پر بھی جنگ کے اثرات کا سامنا کرنے والے کینٹ نے کہا کہ وہ ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتے جس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کی جائے جبکہ اس کے فوائد واضح نہ ہوں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ استعفیٰ نہ صرف امریکی پالیسی کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ایران کے حوالے سے جاری حکمت عملی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس کے مزید سیاسی اثرات سامنے آنے کا امکان ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close