ایران کا جوہری پروگرام بحال نہیں ہو رہا تھا، امریکی
انٹیلی جنس چیف کا اہم انکشاف
تلسی گبارڈ کی سینیٹ میں گواہی، ٹرمپ مؤقف سے تضاد، ایران جنگ
کے جواز پر نئے سوالات اٹھ گئے
بدھ، 18 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
واشنگٹن میں ایک
اہم پیش رفت کے دوران امریکا کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ
ایران گزشتہ سال کی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی
صلاحیت کو دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا، جس سے ایران جنگ کے جواز پر سنجیدہ سوالات
کھڑے ہو گئے ہیں۔
سینیٹ کی انٹیلی
جنس کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے تلسی گبارڈ نے بتایا کہ 2025 میں ہونے والی
امریکی کارروائی، جسے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا نام دیا گیا، نے ایران کے جوہری
پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ان کے مطابق اس کے بعد ایران کی جانب سے اس
پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوئی واضح کوشش سامنے نہیں آئی۔
یہ بیان امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے برعکس ہے جس میں وہ مسلسل ایران کی جوہری سرگرمیوں
کو جنگ کی بنیادی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ
مشترکہ کارروائیوں کا جواز بھی اسی ممکنہ خطرے کو بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب ایران
پہلے ہی جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی
ماہرین بھی یہ رائے دیتے ہیں کہ اگر ایران اس سمت میں پیش رفت کرنا بھی چاہے تو
اسے عملی صلاحیت حاصل کرنے میں کئی سال درکار ہوں گے۔
امریکی حکام کا یہ
بھی دعویٰ ہے کہ حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو
نمایاں نقصان پہنچا ہے، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب بھی خطے میں
اپنے مفادات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام
پر۔
اسی تناظر میں
امریکی پالیسی حلقوں میں اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم
سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ
دے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور جنگی
فیصلہ درست نہیں سمجھا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے
مطابق تلسی گبارڈ کا بیان نہ صرف امریکی پالیسی کے اندرونی تضادات کو نمایاں کرتا
ہے بلکہ ایران کے خلاف جاری حکمت عملی اور اس کے جواز پر بھی عالمی سطح پر نئی بحث
کو جنم دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس انکشاف کے سیاسی اور سفارتی اثرات مزید
واضح ہونے کا امکان ہے۔
.png)
0 Comments