ہیڈ لائنز

ایران نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر دی، تہران میں ہدفی حملہ

 




 
ایران نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر دی، تہران میں ہدفی حملہ
قومی سلامتی کے مشیر اور ان کے بیٹے بھی جاں بحق، ایرانی قیادت کا ردعمل، خطے میں کشیدگی مزید گہری

بدھ، 18 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

ایران نے اپنی اہم سیاسی و سکیورٹی شخصیت اور قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا اور خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علی لاریجانی مشرقی تہران میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے موجود تھے، جہاں انہیں ہدفی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔

علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک مختصر مگر معنی خیز پیغام جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ خدا کا ایک بندہ، خدا سے جا ملا۔ اس سے قبل ان کے اکاؤنٹ سے ہاتھ سے تحریر کردہ ایک پیغام بھی سامنے آیا تھا جس میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔

67 سالہ علی لاریجانی انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ایرانی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی میں طویل عرصے تک کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔

انہوں نے بارہ برس تک ایران کی مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے چیف مذاکرات کار بھی رہ چکے تھے۔ صدارتی سیاست میں بھی وہ ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آتے رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایک قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا، جو ایران کے اندر مختلف سیاسی و ادارہ جاتی حلقوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ان کی شہادت کو ایران کے سیاسی و سکیورٹی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close