ہیڈ لائنز

امریکا اور اسرائیل کو اپنے جال میں پہنس گئے

 

  

امریکہ اور اسرائیل اپنے ہی جال میں کیسے پھنسے؟

رہبرِ انقلاب کی عاشورائی حکمتِ عملی اور مزاحمت کا نیا باب

تحریر: عمران علی دستی

!7 اکتوبر: ایک منصوبہ بند مرحلہ

اگرچہ میں مکتبِ ولایتِ فقیہ کا ایک طالب علم ہوں، مگر موجودہ حالات پر غور کیا جائے تو بہت سے سوالات کے جواب سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔ 7 اکتوبر کو القسام کی جانب سے اسرائیل پر کیا جانے والا حملہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک طویل اور منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ سامراجی قوتوں اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہوتا۔ اس راستے میں بے شمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور مزاحمتی قوتوں نے یہ قربانیاں دی بھی ہیں۔

ایران کے خلاف پراپیگنڈا اور حقیقت!

ایک عرصے سے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ ایران کے اندر غدار موجود ہیں اور ایرانی انٹیلی جنس کمزور ہے۔ دوست اور دشمن دونوں حلقے یہی بات دہراتے رہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب پوری دنیا کسی ایک قوم کے خلاف کھڑی ہو جائے اور ہر طرف دشمنی کا ماحول ہو تو حق پر قائم رہنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ سوال بھی اکثر ذہن میں آتا ہے کہ کیا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ رہبر کہاں رہتے ہیں اور کہاں قیام کرتے ہیں؟ یقیناً سب کو معلوم تھا۔ اس کے باوجود رہبرِ انقلاب اپنی معمول کی زندگی گزارتے رہے۔ درحقیقت یہ صورتحال صرف امریکہ اور اسرائیل کی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ مزاحمت اور انقلابِ ایران کی ایک طویل حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

امتِ مسلمہ میں نئی بیداری!

آج حالات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سنی اور شیعہ کے درمیان فاصلے کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عرب دنیا کے عوام اب اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں دکھائی دیتے۔ دشمن کو بے نقاب کرنا ہی اصل فتح ہوتی ہے اور آج یہ حقیقت پہلے سے زیادہ واضح ہو چکی ہے۔

عاشورائی انداز میں جنگ!

مزاحمتی قوتیں بخوبی جانتی تھیں کہ ان کا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور عسکری نظام سے لیس ہے۔ اس راہ میں قربانیاں ناگزیر تھیں۔ تاریخ ہمیں کربلا کا وہ عظیم واقعہ یاد دلاتی ہے جہاں حضرت امام حسینؓ نے یزیدیت کے عزائم کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا۔ رہبرِ انقلاب بھی بارہا یہ کہتے رہے ہیں:
عاشورائی می جنگیم
یعنی ہم عاشورائی انداز میں جنگ کریں گے۔

یہ الفاظ دراصل ایک ایسی جدوجہد کی طرف اشارہ تھے جس میں قربانیاں ناگزیر ہوں گی مگر نتیجہ حق کی سربلندی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

بڑے سوال اور بدلتی حقیقت!

میرے ذہن میں ہمیشہ سوال اٹھتے رہے:
رہبر کے بعد کیا ہوگا؟
قدس کی آزادی کیسے ممکن ہوگی؟
امریکہ خطے سے کیسے نکلے گا؟
عرب دنیا اختلافات سے کیسے نکلے گی؟
سنی اور شیعہ کیسے ایک ہوں گے؟

رہبرِ انقلاب نے مختلف مواقع پر ان تمام موضوعات پر بات کی، مگر اس وقت شاید ہم ان کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے تھے۔

معلوماتی کمزوری یا حکمتِ عملی؟

اگر واقعی اطلاعاتی نظام کمزور ہوتا تو خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈوں، تنصیبات اور اہلکاروں کے بارے میں اتنی تفصیلی معلومات کیسے حاصل ہوتیں؟ آج کویت، دبئی، بحرین، قبرص اور اسرائیل سمیت کئی مقامات کے بارے میں مکمل معلومات موجود ہیں کہ کہاں کتنی فوج ہے اور کہاں کون سی تنصیبات موجود ہیں۔

یہ سب کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کی علامت ہے۔

کربلا کا پیغام اور آج کی حقیقت!

مجاہدِ اکبر اور مرجعِ اعظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے گویا ایک ایسا منظر پیش کر دیا ہے جس میں کربلا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اس نے دوست اور دشمن دونوں کے سامنے کئی حقیقتیں واضح کر دی ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ کربلا کا ذکر تو کرتے ہیں مگر اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے زمانے کی قربانیوں کو نہ سمجھ سکیں تو شاید ہم کربلا کے فلسفے کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔

کربلا صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام ہے۔ یہ حق اور باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ آج کے حالات بھی اسی پیغام کو نئے انداز میں دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ جو لوگ اس پیغام کو سمجھ لیتے ہیں وہ تاریخ کے دھارے کو بھی بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close