ہیڈ لائنز

مہنگائی کے باوجود ایندھن کی طلب میں غیر معمولی اضافہ، پاکستان میں کھپت 25 فیصد بڑھ گئی

 




مہنگائی کے باوجود ایندھن کی طلب میں غیر معمولی اضافہ، پاکستان میں کھپت 25 فیصد بڑھ گئی

حکومتی سبسڈی کا دباؤ بڑھنے لگا، عوامی رویے نے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا

منگل، 31 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایک غیر متوقع رجحان سامنے آیا ہے جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت آصف علی زرداری نے کی، جس میں توانائی صورتحال اور عوامی استعمال کے رویوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومتی اقدامات جیسے تعطیلات میں اضافہ یا تعلیمی اداروں کی بندش بھی ایندھن کے استعمال میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے، بلکہ عوام گھروں میں رہنے کے بجائے مزید باہر نکلے، جس سے کھپت میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب تک پٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے، جبکہ ہر ہفتے 50 ارب روپے سے زائد کا بوجھ برداشت کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رکھنا ممکن نہیں، جس کے باعث متبادل پالیسی آپشنز زیر غور ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ملک میں پٹرول کی فراہمی میں فی الحال کوئی رکاوٹ نہیں، اور سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے فجیرہ اور ینبع سمیت مختلف ذرائع سے تیل درآمد کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔

حکومت کی جانب سے زیر غور تجاویز میں محدود لاک ڈاؤن، قیمتوں میں مزید اضافہ، اور کم آمدنی والے طبقات کو ہدف بنا کر ریلیف فراہم کرنا شامل ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے صوبوں سے مشاورت جاری ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں واضح لائحہ عمل سامنے آنے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی کھپت اور سبسڈی کا دباؤ نہ صرف معیشت کے لیے چیلنج بن سکتا ہے بلکہ توانائی پالیسی میں فوری اصلاحات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close