ہیڈ لائنز

ٹرمپ کا ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، ورنہ وسیع فوجی کارروائی کی دھمکی

 



 ٹرمپ کا ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، ورنہ وسیع فوجی کارروائی کی دھمکی
توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ، ایران کا جوابی اعلان، خطے میں کشیدگی نئی سطح پر

منگل، 31 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

واشنگٹن: Donald Trump نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے 48 گھنٹوں میں Strait of Hormuz کھولنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے، بصورت دیگر ایران کی توانائی اور بنیادی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (Twitter) پر جاری بیان میں کہا کہ اگر فوری طور پر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے بحال نہ کیا گیا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایک نئی اور “زیادہ معقول” ایرانی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کر رہا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی تاخیر کی صورت میں فوجی کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کے بیان میں خاص طور پر Kharg Island کا ذکر کیا گیا، جو ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی حب سمجھا جاتا ہے، جسے ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو خطے میں امریکی مفادات اور توانائی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی عسکری قیادت کے مطابق کسی بھی حملے کا جواب فوری اور وسیع ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا، ایران اور Benjamin Netanyahu کی قیادت میں اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور سفارتی کوششوں کے باوجود تنازع کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور تنازع کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا، تاہم تازہ بیان اس مؤقف سے واضح انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس تناظر میں کسی بھی فوجی تصادم کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close