ہیڈ لائنز

پیٹرولیم قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ مسترد، صنعتکاروں کا ہنگامی معاشی ریلیف کا مطالبہ



 

عالمی کشیدگی کے باعث قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے پیٹرولیم ٹیکس معطل کیا جائے، صنعتی شعبہ مہنگائی کے نئے طوفان سے خبردار

ہفتہ 7 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

کراچی میں صنعتکاروں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے فی لیٹر اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فوری معاشی ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باوجود حکومت کو چاہیے کہ عوام اور صنعتوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکسوں میں کمی کر کے صورتحال کو متوازن بنائے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالرحمان فُدا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ اضافہ براہ راست عوام اور صنعتوں پر منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم ٹیکس میں کمی کر کے اس کے اثرات کو کم کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ صنعتی شعبہ بھی شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عبدالرحمان فُدا کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ٹرانسپورٹیشن، خام مال اور پیداواری لاگت میں نمایاں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس کے نتیجے میں ملکی برآمدی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے جبکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ موجودہ قیمتوں میں اضافہ اس وقت کیا گیا ہے جب ملک میں موجود پیٹرولیم ذخائر نسبتاً کم قیمت پر خریدے گئے تھے۔ ان کے بقول اس فیصلے نے عوام اور کاروباری حلقوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

صنعتکار رہنما نے حکومت کی جانب سے کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی بڑھتی لاگت پورے معاشی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

عبدالرحمان فُدا نے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سمیت سرکاری افسران کے فیول کوٹے میں کم از کم پچاس فیصد کمی کی جانی چاہیے تاکہ حکومتی سطح پر بھی کفایت شعاری کی عملی مثال قائم ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت صارفین پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 121 روپے اور 118 روپے فی لیٹر تک مختلف ٹیکس اور مارجن ادا کر رہے ہیں جو توانائی کی مجموعی قیمت کو غیر معمولی حد تک بڑھا رہے ہیں۔

صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے اثرات کو براہ راست عوام پر منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم ٹیکس میں کمی کی جائے تاکہ معیشت کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم ہو سکے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close