امریکا ایران مذاکرات کی بے بنیاد خبریں۔عالمی منڈیوں میں تیزی، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
Donald Trump کا پیش رفت کا دعویٰ، اسٹاک ایکسچینجز اوپر، سونا اور ڈالر مستحکم
تاریخ 23 مارچ 2026
دن پیر
رپورٹ جستجو نیوز
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ
سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی مالیاتی اور توانائی منڈیوں میں نمایاں مثبت ردعمل
سامنے آیا ہے جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے
امریکی صدر
Donald Trump کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش
رفت اور مزید حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی
گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ڈاؤ جونز
انڈیکس میں 975 پوائنٹس یعنی 2 اعشاریہ 1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں
2 فیصد اور نیسڈیک میں 2 اعشاریہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو حالیہ مندی کے
بعد ایک مضبوط بحالی سمجھی جا رہی ہے
یورپی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان غالب
رہا جہاں اسٹوکس 600 انڈیکس میں 1 اعشاریہ 1 فیصد جبکہ جرمنی کے ڈی اے ایکس انڈیکس
میں 1 اعشاریہ 8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا
توانائی کی عالمی منڈی میں بھی نمایاں
تبدیلی آئی جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 10 فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 100
ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ ایک موقع پر یہ 96 ڈالر تک بھی گر گئی اسی طرح امریکی
خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 88 ڈالر فی بیرل تک نیچے آگئی
ڈیزل اور پیٹرول فیوچرز میں بھی
بالترتیب 8 اعشاریہ 5 فیصد اور 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے عالمی سطح پر
ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی توقع پیدا ہوئی ہے
محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے
اثاثوں میں کمی دیکھی گئی جہاں سونے کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد کمی ہوئی جبکہ
امریکی ڈالر انڈیکس میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی دوسری جانب سرمایہ کاروں کی
جانب سے بانڈز کی خریداری کے باعث ٹریژری ییلڈز بھی نیچے آئیں
اس کے باوجود رواں سال کے دوران تیل
کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں اور جنگ کے آغاز کے مقابلے میں نمایاں حد تک
زیادہ ہیں جس کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ برقرار ہے
امریکا میں پیٹرول کی قیمت مسلسل
اضافے کے بعد 3 اعشاریہ 96 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو اگست 2022 کے بعد بلند
ترین سطح ہے اور صارفین کو مہنگے ایندھن کی صورت میں اس کشیدگی کی قیمت ادا کرنا
پڑ رہی ہے
بین الاقوامی تناظر
ماہرین کے مطابق ایران امریکا مذاکرات
کی خبروں نے وقتی طور پر عالمی منڈیوں کو سہارا دیا ہے تاہم صورتحال اب بھی غیر
یقینی ہے اور کسی بھی وقت سیاسی یا عسکری کشیدگی دوبارہ قیمتوں کو متاثر کر سکتی
ہے
.png)
0 Comments