خفیہ
بریفنگ کے بعد حکمتِ عملی پر سوالات، جنگ کا جواز بار بار بدلنے کا الزام
بدھ،
4 مارچ 2026 — جستجو نیوز
واشنگٹن:
امریکا میں ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائی پر سیاسی
محاذ گرم ہو گیا ہے اور متعدد ڈیموکریٹک سینیٹرز نے صدر Donald Trump
کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا
کہنا ہے کہ جنگ نہ صرف غیرقانونی بنیادوں پر استوار ہے بلکہ اس کے جواز میں بھی
تضادات پائے جاتے ہیں۔
ڈیموکریٹک سینیٹر Elizabeth
Warren
نے سینیٹ میں خفیہ انٹیلی جنس بریفنگ کے بعد کہا کہ
انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح اور جامع حکمتِ
عملی موجود نہیں۔ ان کے بقول، صورتحال “تصور سے کہیں زیادہ سنگین” ہے اور یہی امر
ان کی تشویش میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ وارن نے جنگ کو “جھوٹ پر مبنی” قرار دیتے
ہوئے اس کے فوری خاتمے کے لیے سیاسی اور پارلیمانی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی سینیٹ میں
ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر Chuck Schumer نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد کہا کہ جنگ کا جواز
مسلسل تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کبھی “رجیم چینج”، کبھی “جوہری ہتھیاروں
کا خطرہ”، کبھی “میزائل پروگرام” اور کبھی “دفاعی ضرورت” کا مؤقف اپنایا جا رہا
ہے، جو پالیسی میں ابہام کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی سلسلے میں
سینیٹر Richard Blumenthal نے خدشہ
ظاہر کیا کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے آپشن پر غور کر
رہا ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے زمینی
آپریشن سے قبل کانگریس کی واضح منظوری اور شفاف حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب سینیٹر
Bernie Sanders نے صدر ٹرمپ پر
سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin
Netanyahu کی علاقائی پالیسیوں کو
غیرمشروط حمایت فراہم کی گئی۔ سینڈرز کے مطابق غزہ کی صورتحال اور ایران کے ساتھ
بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکی مالی اور عسکری معاونت نے تنازع کو وسعت دی ہے۔
سیاسی مبصرین کا
کہنا ہے کہ کانگریس کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اس بات کی علامت ہے کہ ایران
پالیسی آئندہ صدارتی اور کانگریسی مباحث میں مرکزی موضوع بن سکتی ہے۔ ناقدین
انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جنگ کے قانونی جواز، مقاصد اور ممکنہ نتائج
کے بارے میں واضح اور جامع پالیسی بیان جاری کرے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی
جانب سے سینیٹرز کے بیانات پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم
واشنگٹن کی سیاسی فضا اس وقت شدید تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے مطابق
اگر پالیسی ابہام برقرار رہا تو داخلی سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو
امریکا کی خارجہ حکمتِ عملی پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔
.png)
0 Comments