عالمی طاقتوں کی تشویش میں اضافہ
جی سیون ممالک کا ایران جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ
آبنائے ہرمز کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ہتھیار ڈالنے کا
دعویٰ، ماہرین ایران کی مؤثر عسکری حکمت عملی کو نمایاں قرار دینے لگے
جمعہ، 13 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز
دنیا کی بڑی صنعتی معیشتوں کے اتحاد جی سیون کے رکن ممالک نے
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے خلاف جاری جنگ کو فوری
طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا
ہے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی
تجارت اور توانائی کی رسد کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
جی سیون ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں اس بات پر خاص طور پر
زور دیا گیا کہ خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور
توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور گیس کی
ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اس سمندری راستے کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنا اور بین
الاقوامی جہاز رانی کے تسلسل کو برقرار رکھنا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا
گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس کے دوران یہ دعویٰ
کیا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے جی
سیون رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اب ایسا کوئی اعلیٰ عہدیدار
باقی نہیں رہا جو باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال بتدریج
بہتر ہو رہی ہے اور کمرشل جہازوں کو دوبارہ اپنے آپریشنز شروع کر دینے چاہئیں تاکہ
عالمی تجارت کو درپیش رکاوٹیں ختم ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کارروائیوں
کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آنے والے برسوں میں خطہ دوبارہ کسی بڑے عسکری تصادم
کی طرف نہ بڑھے۔
تاہم بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کے مطابق خطے
میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال نے ایران کی عسکری تیاری، دفاعی نظم و ضبط اور
اس کی اسٹریٹجک حکمت عملی کو بھی نمایاں کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ
برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون نظام اور
غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے ذریعے ایسی قوت پیدا کی ہے جس نے بڑی عالمی طاقتوں
کو بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ
براہ راست تصادم کے بجائے دفاعی توازن پیدا کرنا، سمندری گزرگاہوں پر مؤثر نگرانی
رکھنا اور خطے میں اپنی اسٹریٹجک برتری کو برقرار رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج کے
حساس ترین سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں ایران کی موجودگی اور اس کی عسکری
تیاری کو عالمی طاقتیں بھی ایک اہم حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے لگی ہیں۔
مبصرین کے مطابق جی سیون ممالک کی جانب سے جنگ کے فوری خاتمے
کا مطالبہ اس امر کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازع کو طویل شکل اختیار کرتے
دیکھنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے عسکری بحران کے
اثرات براہ راست عالمی توانائی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور عالمی مالیاتی
استحکام تک پہنچ سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نے ایک بار پھر یہ
واضح کر دیا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ حکمت عملی،
صبر اور سفارتی تدبر سے بھی قائم رکھا جاتا ہے، اور ایران کی حالیہ حکمت عملی کو
اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

0 Comments