توانائی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی غیر یقینی بے روزگاری میں نمایاں اضافے کا خدشہ
جستجو نیوز
منگل 17 مارچ 2026
لندن
برطانیہ میں ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے
جڑی جنگی کشیدگی کے اثرات اب برطانوی معیشت تک پہنچ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک
لاکھ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری تنازع کے باعث عالمی منڈیوں میں
عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر برطانیہ کی اقتصادی بحالی پر پڑ
سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو معیشت پر دباؤ مزید بڑھ
جائے گا۔
قبل ازیں توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ رواں سال شرح سود میں دو
مرتبہ کمی سے کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے گا، تاہم موجودہ حالات میں یہ
امکانات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح پہلے ہی پانچ
سال کی بلند ترین سطح یعنی 5.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ جنگ مزید
تین ماہ جاری رہنے کی صورت میں یہ شرح بڑھ کر 5.5 فیصد تک جا سکتی ہے۔
ماہرِ اقتصادیات کیمز اسمتھ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں
اضافے سے کاروباری اداروں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث کمپنیاں ملازمین کو
جبری رخصت دینے یا افرادی قوت کم کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر نئی
بھرتیوں کا عمل بھی سست پڑ سکتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع محدود ہونے اور معیشت
پر منفی اثرات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی جلد کم نہ ہوئی تو اس کے
اثرات نہ صرف برطانیہ بلکہ دیگر عالمی معیشتوں پر بھی مزید شدت کے ساتھ ظاہر ہو
سکتے ہیں۔
.png)
0 Comments