ہیڈ لائنز

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت خطے میں سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی

 



مہنگے ایندھن کے اثرات سے مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ، ٹرانسپورٹ کرایوں میں فوری اضافے کا اعلان، شہریوں کا حکومت سے ریلیف کا مطالبہ

ہفتہ 7 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے بعد مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو بڑھتے معاشی دباؤ سے بچایا جا سکے۔

حکومتی فیصلے کے بعد ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان خطے میں مہنگا ترین پیٹرول فروخت کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر مرتب ہوں گے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت تقریباً 94 روپے 77 پیسے کے برابر ہے جبکہ سری لنکا میں پیٹرول تقریباً 293 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی پیٹرول کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جہاں ایک لیٹر پیٹرول تقریباً 116 ٹکا میں دستیاب ہے۔

معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم ذخائر کی دستیابی کے باوجود قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے اضافی بوجھ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش، صنعتی لاگت اور دیگر بنیادی ضروریات تک پھیل جاتے ہیں۔

پیٹرول مہنگا ہونے کے فوری بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں تقریباً 20 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ اشیاء کی ترسیل کے اخراجات براہ راست مارکیٹ قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔

دوسری جانب پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی کرایوں میں اضافہ شروع ہو گیا ہے جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے کرایوں کے باعث لوگوں کے لیے اپنے عزیز و اقارب سے ملنا اور روزمرہ سفری ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

عوامی اور معاشی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کر سکیں تاکہ معیشت اور عوام دونوں کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close