ہیڈ لائنز

امارات پر حملے ایران کا مؤقف امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

 

 


 
1900 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے اہم تنصیبات متاثر ایران کا کہنا کارروائیاں خطے میں مخالف اتحاد کے خلاف ہیں

جستجو نیوز
منگل 17 مارچ 2026

دبئی / ابوظبی
متحدہ عرب امارات میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملے دراصل امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک امارات پر 1900 سے زائد حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ہدف ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، توانائی تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ کے خلاف ردعمل ہیں، اور ان کا مقصد ان نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے جو ایران کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔

حکام کے مطابق پیر کے روز دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ڈرون واقعے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں اور سفری نظام متاثر ہوا۔

اسی طرح فجیرہ بندرگاہ میں بھی ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات ہیں، جہاں تیل ذخیرہ کرنے کی اہم سہولیات موجود ہیں، جو عالمی سپلائی چین کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

مزید برآں ابوظبی کے مضافات میں ایک کار پر راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری ہلاک ہو گیا، جس سے سیکیورٹی صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ متعدد بار نشانہ بن چکا ہے، جبکہ فروری کے آخر میں ایک لگژری ہوٹل پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری جیو پولیٹیکل کشمکش کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جہاں امارات جیسے ممالک براہِ راست میدانِ تنازع بنتے جا رہے ہیں، اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close