امریکا اور اسرائیل کے مفادات، مسلم حکمرانوں کی ترجیحات پر سوال
تجزیاتی تحریر:عرض سنجرانی
مشرقِ
وسطیٰ آج تاریخ کے نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے
درمیان کشیدگی صرف تنازع نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی ہے، جس میں مسلم
ممالک کو دباؤ، خوف اور عالمی طاقتوں کے کھیل میں فرنٹ لائن پر کھڑا کیا جا رہا
ہے، ریاض میں حالیہ اجلاس میں ایران کے خلاف سخت بیانات اور خلیجی اتحاد کی ترویج
ایک صاف پیغام تھی، خطے میں نئی صف بندی ہو رہی ہے اور پاکستان جیسے حساس ملک کو
اہم کردار دیا جا رہا ہے، مگر وہ کردار اپنی آزادی کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے
مفادات کے لیے ہے، امریکہ کا رویہ دوہرا ہے، ایک طرف پاکستان کو “اہم شراکت دار”
اور “بہترین دوست” کہا جاتا ہے، دوسری طرف اسے خطرہ قرار دے کر دباؤ میں رکھا جاتا
ہے، یہ تضاد محض لفظوں کا نہیں بلکہ ایک مکمل پراکسی کھیل کی نشاندہی کرتا ہے، جس
میں پاکستان کو فرنٹ لائن پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور فیصلہ سازی کسی اور کے
ہاتھ میں رہتی ہے، تاریخ سبق دیتی ہے، افغانستان میں سوویت افغان جنگ کے دوران
پاکستان نے فی سبیل اللہ جہاد میں حصہ لیا، مگر وہ کردار عالمی طاقتوں کے مفادات
کے تابع تھا، اس دوران پاکستان کو انسانی، معاشی اور سیکیورٹی نقصان اٹھانا پڑا،
اور اس کے اثرات آج بھی برقرار ہیں، یہی تجربہ دہرانا کسی بھی قوم کے لیے مہلک ہو
سکتا ہے، خطے کی موجودہ صورتحال میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پر امریکی
دباؤ، ایران کے خلاف ممکنہ صف بندی اور اسرائیل کے گریٹر منصوبے واضح ہیں، امریکہ
چاہتے ہیں کہ عرب ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ اسرائیل اور امریکہ کے مقاصد
بغیر اخراجات کے مکمل ہوں، مگر اس میں پاکستان بھی دباؤ، پریشر اور ممکنہ خطرات کا
شکار ہو سکتا ہے اور اس کے فیصلے کسی اور کی جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں، ایران کی
جرأت، مستقل مزاحمت اور قربانیاں خطے میں توازن پیدا کر رہی ہیں، اسی توازن سے عرب
ممالک کو موقع ملتا ہے کہ وہ امریکہ کے دباؤ، فوجی اڈوں اور بلیک میلنگ سے خود کو
آزاد کریں، اگر وہ ہمت کریں، اپنی معدنیات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول قائم کریں
اور چین و روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں تو وہ صرف اپنی خودمختاری حاصل نہیں کریں
گے بلکہ حقیقی طاقت کے حامل بن جائیں گے، یہ حقیقت واضح ہے کہ امریکہ کے فوجی اڈے
صرف فوجی تنصیبات نہیں بلکہ عوام، نیٹ ورک اور سیاسی دباؤ کے ذریعے کنٹرول کا ذریعہ
ہیں، عرب حکمران اگر امریکہ کے مفادات سے انکار کریں تو بغاوت، عدم استحکام اور
خوف کا سائے ان پر منڈلائیں گے، لیکن ایران کی جرأت نے ایک راستہ کھولا ہے، اب
موقع ہے کہ وہ اپنی آزادی کو یقینی بنائیں اور امریکہ کی مستقل بلیک میلنگ سے جان
چھڑائیں، پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے، اسے ماضی کے اسباق سے سبق لینا ہوگا،
افغانستان کی غلطیاں دہرانے سے گریز کرنا ہوگا اور ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنانی
ہوگی، جس میں خودمختاری، قومی مفاد اور اصول مرکزی ہوں، عالمی سیاست میں دوستی
مستقل نہیں، صرف مفادات ہوتے ہیں، جو قومیں اپنے اصول اور تجربات کے مطابق فیصلے
نہیں کرتیں، وہ دوبارہ اسی دائرے میں پھنس جاتی ہیں جہاں دوسرے ان کے فیصلے طے
کرتے ہیں، مسلم دنیا کے حکمرانوں کو اب یا تو جرأت اور غیرت دکھانی ہوگی، یا ہمیشہ
کے لیے دباؤ اور بلیک میلنگ کی قید میں رہنا ہوگی، ایران کی قربانیوں اور جرات نے
ایک موقع پیدا کیا ہے، اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس موقع کو استعمال کر کے
آزادی اور خودمختاری کی جانب بڑھیں یا پھر ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے کھیل میں
کھو جائیں، یہ وقت صرف بیانات کا نہیں بلکہ سمت طے کرنے کا ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ
ان قوموں سے جواب طلب کرتی ہے جو اپنے موقع اور وقت کو ضائع کرتی ہیں،
.png)
0 Comments