ہیڈ لائنز

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت،آگے کیا ہو گا؟

 




 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطرناک منصوبوں نے دنیا کے امن کو عملاً تہہ و بالا کر دیا ہے۔ایران کے سپریم کمانڈر اور امام خمینی کے بعد ایران میں انقلاب کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہادت ایک بہت بڑا واقعہ  ہے، اس کے اثرات کیا ہوں گے ابھی کوئی بھی اس بارے میں حتمی رائے نہیں دے سکتا،ایک زمانہ  تھا کہ جنگیں اصولوں اور طے شدہ حدود میں رہ کر لڑی جاتی تھیں اوراِس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا تھا، سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا  جائے گا۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا جنگی آرڈر نافذ کر دیا ہے، پہلے امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو اغواء کر کے ایک نئی روایت ڈالی اور اب آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ ڈونلد ٹرمپ کے ڈاکٹرئن میں سب کچھ جائز ہے اس سے پہلے ایران پر اسرائیل نے امریکی پشت پناہی سے جو حملے کئے اُس کے جواب میں ایران نے قطر،کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا،حالانکہ میزائل ان شہروں میں بھی گرے جہاں امریکی اڈے موجود نہیں،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ ایئر پورٹس بند ہو گئے، دنیا بھر میں فضائی سفر متاثر ہوا اور زندگی گویا رُک سی گئی۔ سب سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کر کے اس خبر کو بریک کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں،اس خبر  پر ایران نے ردعمل دیتے ہوئے اسے جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ  ہیں اور ایک خاص مقام سے قیادت کر رہے ہیں تاہم چند گھنٹوں بعد ایران کے سرکاری ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کر دی۔امریکہ وہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو ایک عرصے سے اُس کی حکمت عملی میں سرفہرست تھا، چند ماہ پہلے جب امریکہ نے یہ کوشش کی تھی کہ ایران کے اندر سے پاسدارانِ انقلاب کے خلاف مزاحمت کو اُبھارا جائے تو بڑے بڑے مظاہرے ضرور ہوئے تھے، لیکن جلد ہی ایرانی قیادت نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے قابو پا لیا تھا۔اس کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو منظر سے ہٹانا گویا ضروری ہو چکا تھا،اس وقت یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ آیت اللہ فرانس چلے گئے ہیں مگر وہ تہران ہی میں موجود رہے اور اُن کی حفاظت کو حد درجہ یقینی بنایا گیا۔امریکہ چونکہ اس ہدف کو ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا اِس لئے غالباً ایران کے اندر سے اُن نے ایسے غدار تلاش کئے جو اسے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے  پل پل کی خبر دیتے رہے جس کے بعد صحیح نشانے پر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔86سالہ رہبرِ قوم کا یوں منظر سے ہٹ جانا معمولی واقعہ نہیں اگر طبی موت کا شکار ہوتے تو اتنا ردعمل نہیں ہونا تھا مگر ایک امریکی حملے میں اُن کی شہادت ایرانی عوام کو بہت گہرا زخم لگا گئی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کیا امریکہ اپنے اُس ایجنڈے میں کامیاب ہوتا ہے جو اُس نے ایران کو اسلامی انقلاب کے اثرات سے نکال کے مغربی جمہوریت کا مرکز بنانے کے ضمن میں بنا رکھا ہے ،کیا واقعی ایسا ہو جائے گا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانے سے پاسدارانِ انقلاب عوام کی نظر میں کمزور پڑ جائیں گے؟کیا آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی  زندگی میں ایسا نظام ترتیب نہیں دیا ہو گا کہ اُن کے بعد کون ایران کا سپریم کمانڈر ہو گا؟ میرا خیال ہے اِس حوالے سے سب کچھ طے کیا جا چکا  ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایرانی عوام  نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو ایرانی داخلی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے،اس شہادت کے بعد ایران کے طول و عرض اور خود تہران میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر جس طرح سینہ کوبی کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے وہ امریکی ایجنڈے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، لاکھوں افراد   نے مرگ بر امریکہ کے نعرے لگائے، اسلامی نقلاب کی سپورٹ کرنا اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ رضا شاہ پہلوی دوم کو ایران پر مسلط کرنے کا امریکی خواب ہنوز دلی دور است کی طرح ہے،جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ایران اسلامی ممالک میں میزائل حملے کیوں کر  رہا ہے؟ تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ایران کے پاس امریکہ کو جواب دینے کے لئے اور کیا آپشن ہے۔وہ تو سات سمندر پار بیٹھا ہے، البتہ اُس کے اڈے ان اسلامی ممالک میں موجود ہیں  پھر اُس کے پاس آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اختیار بھی ہے، جو تیل سپلائی کی شہ رگ ہے۔ اب اسلامی دنیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اپنا مشترکہ تشخص کھو بیٹی ہے۔پہلے بیک آواز امریکہ و اسرائیل کے خلاف بولتی تھی اب پورے منظر نامے میں ایران کو نکال کے سب امریکی  کیمپ میں جا چکے ہیں۔اب ایرانیوں کو کوئی کس منہ سے یہ کہہ سکتا  ہے کہ وہ جنگی جنون کا شکار ہو کر اسلامی ممالک کے ہوائی اڈوں اور عام مقامات کو نشانہ نہ بنائے، جب اُن کے سپریم لیڈر کو ایران میں گھس کر نشانہ بنایا گیا ہے تو پھر اُن پر کیسے پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں؟ غور کیا جائے تو اس وقت دنیا میں توازن بالکل بگڑ چکا ہے۔پہلے کہا جاتا تھا کہ دنیا میں کئی سپر پاورز ہیں۔روس، چین، فرانس اور برطانیہ کا نام خاص طور پر لیا جاتا تھا، مگر حیران کن طور پر یہ ممالک سہمے سہمے نظر آتے ہیں اس سے یہ تاثر عام ہوا ہے کہ دنیا میں اب صرف امریکہ  ہی واحد سپر پاور رہ گیا ہے وہ  جو چاہے کرے اُسے اقوام متحدہ روک سکتی ہے اور نہ سلامتی کونسل۔
یہ بات تو زبانِ زد عام ہے کہ امریکہ ایران میں گھس آتا ہے تو اس کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا اگرچہ اس وقت ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی گڈ بک میں ہیں اور وہ ہماری تعریف کرتے نہیں تھکتے،لیکن امریکی ایجنڈا تو کچھ اور  ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بہت اہم ہے۔ چین اور روس تک پہنچنے کے لئے پاکستان میں بیٹھنا ضروری ہے۔ ہمارے اہل ِ سیاست و قیادت حالات کو سمجھ رہے ہیں یا نہیں، ہماری حالت اس وقت عجیب کشمکش جیسی ہے جس پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے:

ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے جو آج ہے وہ کل نہیں ہو گی۔ ہم اس وقت بھارت اور افغانستان کی دشمنی میں گھرے ہوئے ہیں اگر آگے چل کر امریکی آشیرباد سے ایران بھی ہمارے متحارب کھڑا ہو جاتا ہے تو صورت حال کیا ہو گی۔ایرانی عوام نے تو تقریباً نصف صدی تک اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کے باوجود امریکہ کو قدم نہیں جمانے دیئے، ہماری تو معیشت بھی کمزور ہے اور داخلی انتشار پر بھی ہم قابو نہیں کر پا رہے، بدلتے حالات میں ہماری قومی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے،اس پر پہلی فرصت میں غور و فکر کی ضرورت ہے  وگرنہ زمانہ تو چال قیامت کی چل ہی رہا ہے۔

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close