ہیڈ لائنز

امارات میں جنگی مناظر شیئر کرنا جرم بن گیا، ستر برطانوی شہری حراست میں

 



امارات میں جنگی مناظر شیئر کرنا جرم بن گیا، ستر برطانوی شہری حراست میں

ڈرون اور میزائل حملوں کی ویڈیوز پھیلانے پر سخت کریک ڈاؤن، پاسپورٹس ضبط، سیکیورٹی قوانین مزید سخت

اتوار، 29 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

ابوظہبی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں حکام نے ایران سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں برطانیہ کے ستر شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرِ حراست افراد میں سیاح، امارات میں مقیم برطانوی شہری اور مختلف ایئرلائنز کے فضائی عملے کے ارکان شامل ہیں، بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے تاہم ان کے پاسپورٹس ضبط کر لیے گئے ہیں تاکہ وہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ملک سے باہر نہ جا سکیں

حکام کا کہنا ہے کہ اماراتی قوانین کے تحت حساس نوعیت کی معلومات، تصاویر یا ویڈیوز کو نہ صرف شیئر کرنا بلکہ بعض حالات میں انہیں وصول کرنا بھی قابلِ سزا جرم ہے، ایسے جرائم پر دس سال تک قید اور دو لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے

سرکاری مؤقف کے مطابق یہ کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ اور حساس معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگی ماحول پیدا ہونے سے قبل تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار برطانوی شہری دبئی میں مقیم تھے، تاہم ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد ان میں سے بڑی تعداد وطن واپس جا چکی ہے

دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں خلیجی ممالک کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کی واضح علامت ہیں، جہاں جنگی حالات میں معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا ریاستی ترجیحات میں سرفہرست آ چکا ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا بھی اس کا ایک اہم محاذ بن چکی ہے جہاں ایک ویڈیو یا تصویر بھی قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتی ہے

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close