ایران کی آبنائے ہرمز بندش سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بلند
امریکی معیشت میں عدم استحکام اور داخلی دباؤ بڑھ گیا
جستجو نیوز
جمعہ 16 مارچ 2026
ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکا بڑے پیمانے پر مالی نقصان
اور شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے
اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جس سے عالمی سطح
پر پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں، جس کا اثر
براہِ راست امریکا پر بھی پڑ رہا ہے۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول کی
اوسط قیمت بڑھ کر 3.68 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی قیمت
سے تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں آج برینٹ کروڈ کی قیمت 2.67 فیصد
اضافے کے بعد 103.14 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ
خام تیل 3.11 فیصد اضافے کے ساتھ 98.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ڈیزل کی اوسط
قیمت اس ہفتے 4.85 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو ایران پر ابتدائی حملوں سے پہلے
تقریباً 3.71 ڈالر فی گیلن تھی۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے شپنگ اور لاجسٹکس کے
اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، مثال کے طور پر بڑی کوریئر کمپنی فیڈایکس اضافی سرچارج
عائد کرتی ہے جب ڈیزل کی قیمت 3.55 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرتی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی معیشت کے متعدد شعبوں کو
متاثر کر رہا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ گئیں، کھاد کی سپلائی متاثر ہو
رہی ہے کیونکہ کئی اہم اجزا کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ ہوائی سفر بھی مہنگا
ہو رہا ہے کیونکہ جیٹ فیول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جو امریکا کے بین الاقوامی
پروازوں کے حب پر اثر ڈال رہی ہیں۔
اس صورتحال سے صدر ٹرمپ پر داخلی اور خارجی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی کانگریس سرگرم ہے اور جی سیون ممالک نے صدر ٹرمپ سے جنگ کے جلد خاتمے پر
زور دیا ہے۔
.png)
0 Comments