ہیڈ لائنز

ایران میں دس لاکھ سے زائد جنگجوؤں کو امریکہ کے ساتھ زمینی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے، تسنیم نیوز ایجنسی کا دعویٰ

 




 

ایران میں دس لاکھ سے زائد جنگجوؤں کو امریکہ کے ساتھ زمینی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے، تسنیم نیوز ایجنسی کا دعویٰ

 

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کے اشارے دے دیے ہیں، جہاں دونوں جانب سے نہ صرف بیانات بلکہ عملی تیاریاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی   تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے ممکنہ امریکی زمینی حملے کے پیش نظر ایک ملین سے زائد فوجیوں کو متحرک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ میں ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران نے نہ صرف بڑے پیمانے پر زمینی جنگ کی تیاری شروع کر دی ہے بلکہ حالیہ دنوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بسیج ملیشیا، پاسداران انقلاب اور باقاعدہ فوج یعنی Artesh میں شمولیت کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکہ نے جنوبی محاذ سے حملہ کیا تو ایران اپنی سرزمین کو امریکی افواج کے لیے “تاریخی جہنم” بنا دے گا۔

ایرانی ذرائع نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اگر امریکہ نے کوئی جارحانہ یا “خود تباہ کن” حکمت عملی اپنائی تو ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے، چاہے اس کا نتیجہ کھلے تصادم کی صورت میں کیوں نہ نکلے۔ اس دوران ایرانی میڈیا نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز کے ساتھ ساتھ زمینی افواج کی مشقوں اور تیاریوں کی جھلکیاں دکھانا شروع کر دی ہیں، جسے ماہرین پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

ایران کی بری فوج کے کمانڈر علی جہان شاہی نے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا اور فوجیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ زمینی جنگ دشمن کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگی اور اس کی قیمت ناقابلِ تلافی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران دشمن کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد آرمی کمانڈر منظرعام پر آئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ دوسری طرف عملی طور پر خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے جاپان اور کیلیفورنیا سے تقریباً پانچ ہزار میرینز کے ساتھ ساتھ 82 ویں ایئر بورن   کے دو ہزار اہلکار بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی میڈیا پلیٹ فارم ایکسیوس کے مطابق پینٹاگون ایران کے خلاف “حتمی وار” کے آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز  خارگ جزیرے پر حملہ یا ناکہ بندی بھی شامل ہے

 

۔



0 Comments

Type and hit Enter to search

Close