اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد تہران کا سخت مؤقف، صنعتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰاور صہیونی طاقت کے کمزور پڑنے کا اعلان
اتوار، 15 مارچ
2026
رپورٹ: جستجو نیوز
تہران
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم
Benjamin Netanyahu کے خلاف انتہائی سخت بیان جاری کرتے
ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اب تک زندہ ہے تو اسے تلاش کر کے ہلاک کر دیا جائے گا۔
ایرانی عسکری قیادت کے مطابق موجودہ جنگی صورتحال میں صہیونی حکومت کی بنیادیں ہل
رہی ہیں اور اسرائیل کی عسکری برتری تیزی سے زوال کا شکار ہو رہی ہے۔
ایرانی میڈیا اور
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا
گیا ہے کہ حالیہ میزائل کارروائیوں میں اسرائیل کے اہم صنعتی اور اسٹریٹجک مراکز
کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کے بعد اسرائیلی شہروں میں
مسلسل گونجتی ایمبولینسوں کی آوازیں اس بات کی علامت ہیں کہ صہیونی دفاعی نظام
شدید دباؤ کا شکار ہے۔
بیان میں مزید کہا
گیا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جہاں اسرائیل
کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو دور سے نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ پاسدارانِ
انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کی کارروائیوں نے اسرائیلی صنعت، مواصلاتی ڈھانچے اور
عسکری تنصیبات پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔
ایرانی قیادت کا
کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل کی حکمت عملی ناکام ہوتی دکھائی
دے رہی ہے اور صہیونی حکومت اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے
بیان میں کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیل کے قدم خطے میں مضبوط
نہیں رہے اور طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔
دوسری جانب
اسرائیلی حکام کی طرف سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں
آیا تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور
صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
علاقائی تجزیہ
کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی اور عسکری
کشیدگی مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی
اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
.png)
0 Comments