عدلیہ اور سیاسی دباؤ کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم کا مستقبل غیر
یقینی
امریکی دباؤ کے باوجود قانونی تقاضے مقدم رہنے کے حامی
جمعہ، 13 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز
اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم نیتن
یاہو کی کرپشن کیسز میں صدارتی معافی کی درخواست پر قانونی رائے مکمل کرتے ہوئے
اسے صدر اسرائیل Isaac Herzog کو بھیج دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پارڈن ڈپارٹمنٹ نے معافی کی
سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی۔
دستاویز وزیرِ انصاف کی ہدایت پر وزیرِ ثقافت و ورثہ کو دی گئی
ہے جو صدارتی دفتر تک باضابطہ کارروائی مکمل کریں گے۔ وزارتِ انصاف کی رائے میں
کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی درخواست میں جرم کا اعتراف یا پچھتاوے کا اظہار شامل
نہیں، جو قبل از وقت معافی کے لیے قانونی شرط ہے۔
اسرائیلی ہائی کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی ہے کہ سزا سے پہلے
معافی دی جا سکتی ہے لیکن درخواست گزار کا جرم قبول کرنا لازمی ہے۔ نیتن یاہو کے
خلاف مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں کسی جرم میں سزا سنائی نہیں گئی۔
امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے اسرائیلی صدر پر نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے
دباؤ ڈالنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم قانونی اور عدالتی تقاضے مقدم ہیں۔
نیتن یاہو کے کرپشن کیس کی مختصر تاریخ کے مطابق، 2019 میں
پراسیکیوٹر جنرل نے ان پر رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عائد
کیے۔ اگلے سال تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں باقاعدہ سماعت شروع ہوئی، اور پانچ سال کے
دوران مختلف سماعتوں میں ٹھوس شواہد پیش کیے گئے، لیکن نیتن یاہو ان الزامات سے
انکاری رہے۔
2025
میں وزیراعظم نے صدارتی معافی کی درخواست دائر کی، جس پر
ملک بھر میں متضاد رائے سامنے آئی۔ اب وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے قانونی
رائے تیار کر دی ہے، تاہم حتمی فیصلہ صدر اسرائیل Isaac Herzog کریں گے، جو ممکنہ سیاسی اور عدالتی تنازعات کے درمیان ایک
حساس فیصلہ ہوگا۔
.png)
0 Comments