نیٹو ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا، سیکرٹری جنرل کا
اعلان
انفرادی رکن ممالک کو صوابدیدی اقدامات کی اجازت، خطے
میں کشیدگی برقرار
برسلز، پیر، 2 مارچ 2026 — جستجو نیوز
North
Atlantic Treaty Organization کے سیکرٹری جنرل
Mark Rutte نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی
یا ممکنہ جنگ میں نیٹو بطور اتحاد شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، تاہم رکن
ممالک اپنی قومی پالیسی کے مطابق انفرادی فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔
برسلز میں جرمن نشریاتی ادارے
ARD کو دیے گئے انٹرویو میں مارک روٹے نے دوٹوک الفاظ
میں کہا کہ نیٹو کے طور پر اس تنازع کا حصہ بننے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ بعض رکن ممالک اپنی صوابدید کے تحت امریکا اور
اسرائیل کی کارروائیوں میں سہولت کاری کر رہے ہیں، تاہم یہ اقدامات نیٹو کے
اجتماعی فیصلے کی عکاسی نہیں کرتے۔
امریکی نشریاتی ادارے
CNN کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے
میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں نیٹو کے رکن ممالک اپنی اپنی حکمت عملی ترتیب
دے رہے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے ایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو
علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ امریکی
اور اسرائیلی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے
وہ جوہری ہتھیار سازی یا میزائل طاقت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب United Kingdom نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا
حصہ نہیں، تاہم اس نے اپنے فوجی اڈوں کو دفاعی نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال
کرنے کی اجازت دی ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں ممکنہ میزائل
خطرات کے سدباب کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اتوار کے روز United Kingdom، Germany اور
France نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ خطے میں اپنے
اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔ بیان میں
عندیہ دیا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو اس کے منبع
پر نشانہ بنانے کے لیے متناسب اور دفاعی نوعیت کی کارروائیوں میں سہولت فراہم کی
جا سکتی ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق نیٹو کی اجتماعی غیر شمولیت کا اعلان
کشیدگی کو مزید وسعت اختیار کرنے سے روکنے کی ایک کوشش سمجھا جا رہا ہے، تاہم رکن
ممالک کے انفرادی فیصلے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر اثر
.png)
0 Comments