ہیڈ لائنز

ایران کے حملے سے قطر کا سب سے بڑا گیس پلانٹ تباہی کا شکار

 



 

ایران کے میزائل حملے، قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ کو شدید نقصان

خلیجی توانائی مرکز پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، قطر نے ایرانی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

جمعرات، 19 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

قطر نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں سے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قائم گیس تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے اہم گیس فیسلٹی کو نمایاں نقصان ہوا، تاہم قطر انرجی اور وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

بعد ازاں قطر انرجی نے ایک اور بیان میں کہا کہ دیگر ایل این جی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے مزید آگ اور مالی نقصان ہوا۔ قطر نے اس حملے کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ایرانی سفارت خانے کے فوجی و سکیورٹی اہلکاروں کو پرسونا نان گراٹا قرار دیا اور انہیں 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران نے اسرائیل کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد خلیجی ممالک کی تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ راس لفان انڈسٹریل سٹی دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پیداواری مرکز ہے جو عالمی گیس سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے قطر کے امیر اور امریکی صدر سے رابطہ کر کے توانائی اور شہری تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔ اس واقعے کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں عدم یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

  


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close