ایران جنگ خطے کو دہائیوں پر محیط بحران میں دھکیل سکتی ہے، ترک انٹیلی
جنس چیف کی وارننگ
سفارتکاری ہی واحد راستہ، پاکستان کی کوششوں کی حمایت، مشرق وسطیٰ میں
نئے جغرافیائی حقائق کا خدشہ
پیر، 30 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
انقرہ
سے آنے والے اہم سفارتی اشاروں میں ترکیہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن
نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی ایک طویل اور خطرناک علاقائی بحران
میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو کئی دہائیوں تک خطے اور دنیا کو اپنی لپیٹ میں رکھ سکتا
ہے
اپنے
خطاب میں ابراہیم قالن نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال محض ایک محدود جنگ نہیں بلکہ
ایک بڑے اور دیرپا تصادم کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک
محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر اس کے نتائج محسوس کیے جائیں گے
انہوں
نے قیامِ امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، پاکستان کی
سفارتی اور مذاکراتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم
کرنے کے لیے سفارتکاری ہی سب سے مؤثر اور قابلِ عمل راستہ ہے
ترک
انٹیلی جنس سربراہ نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اگرچہ ایران کی جانب سے خلیجی
ممالک پر حملے ناقابل قبول ہیں، تاہم اس تنازع کے آغاز اور اس کے پس منظر کو بھی
نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا
مظاہرہ کریں اور صورتحال کو مزید بگاڑنے سے گریز کریں
ابراہیم
قالن نے خبردار کیا کہ یہ جنگ ترکیہ، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل
المدتی تقسیم کو جنم دے سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید گہرا ہو جائے گا
انہوں
نے مزید کہا کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو لبنان، شام، فلسطین اور دیگر حساس خطوں
میں نئے جغرافیائی اور سیاسی حقائق سامنے آ سکتے ہیں، جس کی قیمت نہ صرف خطے بلکہ
پوری دنیا کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے
دفاعی
و سفارتی ماہرین کے مطابق یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی
کشیدگی اب ایک عالمی چیلنج بنتی جا رہی ہے، جہاں فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کے
بغیر صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے
.png)
0 Comments