ہیڈ لائنز

ایرانی میزائلوں کی غیر معمولی درستگی پر عالمی سوالات، کیا بیجنگ پسِ پردہ کردار ادا کر رہا ہے

 




حالیہ کشیدگی میں ایران کی  ہدفی صلاحیت میں نمایاں بہتری نے دفاعی ماہرین کو چونکا دیا، بیرونی معاونت سے متعلق قیاس آرائیاں تیز

بدھ، 4 مارچ 2026 — جستجو نیوز

حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایران کی میزائل صلاحیتوں میں اچانک اور غیر معمولی بہتری نے بین الاقوامی دفاعی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل اب ایسی حیران کن درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جس نے روایتی عسکری اندازوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

معروف تجزیہ کار ماریو نوفال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر سوال اٹھایا کہ آیا چین فعال طور پر ایران کو جدید ریڈار اور میزائل گائیڈنس سسٹمز فراہم کر رہا ہے؟ ان کے مطابق حالیہ حملوں میں مبینہ طور پر اہداف کو اس سطح کی باریکی سے نشانہ بنایا گیا کہ مخصوص عمارتوں کی منزلوں اور کمروں تک کو ہدف بنانے کے دعوے سامنے آئے۔

نوفال نے اپنی پوسٹ میں ماضی کی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں کی درستگی پر سنجیدہ سوالات اٹھے تھے، متعدد میزائل اپنے مقررہ اہداف سے ہٹ کر گرے تھے۔ ان کے بقول، موجودہ کارکردگی میں یہ ڈرامائی تبدیلی محض داخلی تکنیکی ارتقا کا نتیجہ نہیں لگتی بلکہ کسی بیرونی تکنیکی معاونت کی نشاندہی کرتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید میزائل گائیڈنس سسٹمز، سیٹلائٹ ڈیٹا انٹیگریشن، اور ہائی پریسیژن ٹرمینل گائیڈنس ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ہدفی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ اگر کسی بڑے عالمی کھلاڑی کی معاونت شامل ہو تو یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔

تاہم اب تک نہ چین اور نہ ہی ایران کی جانب سے اس نوعیت کی کسی براہِ راست عسکری معاونت کی تصدیق کی گئی ہے۔ سرکاری سطح پر خاموشی برقرار ہے جبکہ سفارتی ذرائع ان دعوؤں کو قیاس آرائی قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب بعض ماہرین اس امکان کو بھی رد نہیں کرتے کہ ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنے دفاعی پروگرام میں اندرونی سطح پر سرمایہ کاری بڑھائی ہو، جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی میں بتدریج مگر مؤثر بہتری آئی ہو۔ ان کے مطابق جدید جنگی حکمت عملی میں سافٹ ویئر اپ گریڈیشن، ڈیٹا اینالٹکس اور ڈرون انٹیگریشن بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو بظاہر بیرونی مداخلت کے بغیر بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں یہ سوال بدستور گردش کر رہا ہے کہ آیا ایرانی میزائل پروگرام کی حالیہ کامیابیاں

 خود انحصاری کا ثمر ہیں یا کسی بڑی طاقت کی خاموش شراکت داری کا نتیجہ۔ عالمی برادری کی نظریں آئندہ دنوں میں سامنے آنے والی ممکنہ سفارتی یا انٹیلیجنس معلومات پر مرکوز ہیں۔

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close