اکتوبر 2023ء میں حماس نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کرکے اسرائیلی دفاعی نظام کے بارے میں پائے جانے والے تاثرات کو غلط ثابت کر دکھایا تھا دو سال تک اسرائیل امریکہ و دیگر صہیونی دوست عیسائی ممالک کی متحدہ عسکری قوت کا دیوانہ وار مقابلہ کیا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ اسرائیل ناقابل شکست نہیں ہے۔ جاپان نے دوسری جنگ عظیم (1939-45) کے دوران پرل ہاربر پر حملہ کرکے امریکی سرزمین تک نارسائی کے تصور کی نفی کر دی تھی۔ دنیا سمجھتی تھی کہ امریکی سرزمین ناقابل رسائی ہیں ان پر براہ راست حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ جاپانی حملے نے اس تاثر کی نفی کر دکھائی اسی طرح حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے ان کے آئرن ڈوم حصار کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کی نفی کر دی۔دو سال تک اسرائیلی حواریوں کی متحدہ جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کرکے دنیا کو حیران کر دیا اسی طرح ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی متحدہ قوت کا مقابلہ کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ایران اسرائیل اور امریکی اہداف پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ امریکی عسکری قوت کا ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر بھی ملیا میٹ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل خطے میں ایک موثر عسکری قوت کے طور پر موجود ہے۔عربوں کے عسکری بازو مصر، عراق و شام سب کچھ ملیا میٹ کئے جا چکے ہیں۔عربوں کی فکری قوت اخوان المسلمون بھی تاریخ کا حصہ بنائی جا چکی ہے۔ عربوں کی اسلامی حمیت کو عرب نیشنل ازم کے ذریعے مدت ہوئی سپردخاک کیا جا چکا ہے۔ صہیونی تحریک ایک صدی سے یہودیوں کیلئے عظیم ریاست کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہے۔ صہیونی تحریک اپنی قوت تورات سے حاصل کرتی رہی ہے۔ریاست اسرائیل بھی اپنے آپ کو الہامی اور وعدہ خداوندی کی تکمیل تصور کرتی ہے۔ گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل ایک الہامی ذمہ داری جانی جاتی ہے۔ صیہونی تحریک عالمی غلبے کیلئے کوشاں ہے اور ہر لمحہ اس ٹارگٹ کے حصول کیلئے انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی کمرتوڑی جا چکی ہے۔ غزہ ملیا میٹ کیا جا چکا ہے۔ کسی عرب اور مسلم ملک نے حماس کی مدد نہیں کی۔ ایران نے امریکہ و اسرائیل کی متحدہ عسکری قوت کے ساتھ متھالگایا ہے اسے للکارا ہے وہ مثالی ہے۔ ایران ایک قومی ریاست ہے ایرانی ایک قوم ہیں۔ ان کی ایک قومی تاریخ بھی ہے شیعہ مسلک نے ان کی قومیت کو اور بھی مستحکم کر دیا ہے۔ امام خمینی کے انقلاب نے ایرانی قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا،بوجوہ کوئی بھی مسلم ملک ایران کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آ رہا،ایران طویل عرصے سے عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔اس کی معیشت تباہ حال ہے۔ ایران پر حملے نے خطے میں خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ایرانی عسکری حکمت عملی نے اس صورت حال کو دوچند کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز بند کی جا چکی ہے جہاں سے تیل کی عالمی تجارت کا 20فیصد گزرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر کی برآمد تیل کا 90فیصد اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ہندوستان کی درآمدی تیل کا 60فیصد ہرمز سے گزر کر وہاں پہنچتا ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر عرب ممالک کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ ایران صرف ان ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا لیکن ایرانی میزائل تو متحدہ عرب امارات کے سویلین ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ جنگ ایران اسرائیل، ایران امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران۔ عرب جنگ کی شکل بھی اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ، ایران کو ایک دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے اسے عربوں کو ڈرانے، دھمکانے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ ایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہا ہے۔ ایران کے حمایتی گروپ اور ممالک یعنی شام، عراق اور لبنان عرب حکمرانوں کے مفادات کے خلاف متحرک رہے ہیں۔ حماس کو عرب حکمران پسند نہیں کرتے کیونکہ حماس ایسے آزاد فلسطین کے قیام کیلئے کوشاں ہے جس کا مرکز بیت المقدس ہو گا۔یہ بات اسرائیل کو کسی طور بھی قبول نہیں ہے۔ حماس فکری طور پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اسرائیل کو ناجائز ریاست تصور کرتی ہے اور اس کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے۔ عرب حکمرانوں کو پسند نہ کرنا، اسرائیل کو ناجائز ریاست ماننا اور اس کے لئے عملاً جدوجہد کرنا ایسے نقاط ہیں جو حماس اور ایران کے مابین مشترک ہیں اس لئے یہ دونوں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا قیام یہود کی ازلی و ابدی خواہش ہے وہ اسے وعدہ خداوندی تصور کرتے ہیں اور اسے خدائی حکم یعنی گریٹر اسرائیل کی تعمیر ا ن کے نزدیک ایک الہامی فرض ہے اور خدائی وعدہ ہے وہ اس کے لئے مصروف عمل ہیں۔ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہ فکری و عملی طور پر اس کی راہ میں مزاحم ہیں۔ یروشلم کو اپنا مقدس شہر سمجھتے ہیں اور اسے فلسطینی ریاست کا دارالحکومت حماس اس حوالے سے آخری مورچہ تھا جو انہوں نے فتح کر لیا ہے، ایران اب ان کا فعال ہدف ہے اسے تباہ و برباد کرنے کے لئے انہوں نے حالیہ جنگ شروع کی ہے۔ عالم اسباب کو دیکھیں تو کوئی اور صورت نظر نہیں آتی کہ ایران تباہ ہو جائے گا۔ امریکہ و اسرائیل کی اندھی عسکری قوت کے بل بوتے پر ایران کو اپاہج کیا جائے گا۔ حالات بظاہر اسی سمت جاتے نظر آ رہے ہیں۔ ہاں کوئی معجزہ ہو جائے تو دوسری بات ہے۔ ایران نے جس طرح جنگی حکمت عملی کو اسرائیل پر مرتکز کرنے کی بجائے دیگر عرب ممالک کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اس سے عرب و عجم کی پرانی رقابت بھی جھلکتی نظر آ سکتی ہے۔ عرب و عجم کی دشمنی کی روایت بھی سامنے آ سکتی ہے۔ بہرحال اب جنگ شروع ہو چکی ہے۔ خطہ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا ہے اور یہ جنگ فوری طو رپررکتی یا بند ہوتی نظر نہیں آ رہی،تیل کی عالمی تجارت متاثر ہوگی۔ سٹاک مارکیٹیں تباہ ہوں گی۔ جاری منصوبے رک جائیں گے۔ خطے کی طرف آتی سرمایہ کاری منجمدہوگی اور اس کا رخ کسی اور طرف بھی ہو سکتا ہے حالات غیر معمولی ہیں اس لئے انجام بھی غیر معمولی ہو سکتا ہے۔ تباہی و بربادی، مکمل تباہی و بربادی۔ اللہ خیر کرے۔

0 Comments