ایران پر مکمل کنٹرول کا خواب، امریکا کو دس لاکھ فوج درکار، برطانوی
تجزیہ
محدود فوجی تعیناتی غیر مؤثر، عراق اور افغانستان کی مثالیں فیصلہ کن
وارننگ بن گئیں
اتوار، 29 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
ایک
معتبر برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے تازہ دفاعی تجزیے نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی
ہوئی صورتِ حال پر ایک سنجیدہ سوال اٹھا دیا ہے، کیا امریکا ایران جیسے وسیع،
مضبوط اور مزاحمتی ملک پر محدود فوجی طاقت کے ذریعے قابض ہو سکتا ہے؟
معروف
دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر
مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کم از کم دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت
ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود تعداد میں فوج بھیجنا نہ صرف ناکافی بلکہ ایک خطرناک
حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے
رپورٹ
کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں مزید دس ہزار فوجیوں کی تعیناتی
پر غور کر رہے ہیں، جو پہلے سے موجود تقریباً آٹھ ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل
کر ممکنہ کارروائیوں کا حصہ بن سکتے ہیں، تاہم عسکری ماہرین کے نزدیک یہ تعداد کسی
بڑے اسٹریٹجک ہدف کے حصول کے لیے انتہائی کم ہے
تجزیے
میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق
میں 2007 اور 2008 کے دوران تقریباً ایک لاکھ پچاسی ہزار امریکی اور اتحادی فوجی
موجود تھے، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا، اسی طرح افغانستان کے صوبہ
ہلمند میں ہزاروں فوجیوں کی موجودگی بھی دیرپا امن قائم کرنے میں ناکام رہی
ماہرین
کے مطابق ایران نہ صرف رقبے کے لحاظ سے وسیع ہے بلکہ اس کی آبادی، جغرافیائی
پیچیدگی اور فوجی ساخت بھی اسے ایک منفرد چیلنج بناتی ہے، جہاں پاسدارانِ انقلاب،
باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا جیسے مضبوط ادارے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف
بھرپور مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہیں
رپورٹ
میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ابتدائی فضائی یا محدود زمینی حملوں کے ذریعے
امریکا اہم اہداف، جیسے تیل کی تنصیبات یا حساس جزائر، پر وقتی کنٹرول حاصل کر
سکتا ہے، مگر اس کے بعد گوریلا جنگ، ڈرون حملوں اور غیر روایتی مزاحمت کا ایک طویل
اور مہنگا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے
برطانوی
فوج کے سابق سینئر افسران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے مقاصد واضح نہ ہوں تو
ایسی مہم نہ صرف ناکامی بلکہ عالمی سطح پر سنگین سیاسی اور اقتصادی نتائج کا باعث
بن سکتی ہے
تجزیہ
اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا
فیصلہ ایک ایسا قدم ہو سکتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے عدم استحکام
کا نیا باب کھول دے
.png)
0 Comments