ممکنہ فالس فلیگ
حملے کی سازش کا خدشہ، ایران نے امریکہ اور اتحادیوں پر سنگین منصوبہ بندی کا
الزام عائد کر دیا
تہران کا انتباہ،
نائن الیون طرز کے واقعے کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے
اتوار، 15 مارچ
2026
رپورٹ: جستجو نیوز
تہران
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری
Ali Larijani نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے
اتحادی ایک ممکنہ فالس فلیگ حملے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں جس کا الزام ایران پر
عائد کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بعض عناصر
نائن الیون جیسے واقعے کو دوبارہ دہرانے کی سازش تیار کر رہے ہیں تاکہ اس کا ذمہ
دار ایران کو ٹھہرایا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر
جاری بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ ایران بنیادی طور پر اس نوعیت کی دہشت گردانہ
کارروائیوں کا سخت مخالف ہے اور تہران کی پالیسی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت
نہیں کرتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جنگ امریکی عوام کے ساتھ نہیں بلکہ ان
پالیسیوں کے خلاف ہے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا
کہ موجودہ صورتحال میں ایران خود کو United States اور Israel کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف دفاعی پوزیشن میں دیکھتا ہے۔ ان
کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن
انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں جارح قوتوں
کو جوابدہ بنایا جائے گا۔
علی لاریجانی کے
مطابق بعض اطلاعات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ایران پر الزام عائد کرنے کے لیے ایک
منظم بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا اور
ایران کے خلاف مزید دباؤ پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکی میڈیا
کی سابقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ Federal Bureau of Investigation نے فروری کے اوائل میں امریکی حکام کو یہ انٹیلی جنس فراہم کی
تھی کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف عسکری کارروائی کرتا ہے تو ممکن ہے کہ ایران کسی
نامعلوم جہاز سے ڈرون حملہ کر کے California کے ساحلی
علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے۔
علاقائی اور عالمی
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سفارتی
محاذ پر بھی بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے
میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی سلامتی اور
سیاسی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
.png)
0 Comments