امریکا کو ایران کی سخت وارننگ، زمینی حملہ ہوا تو نتائج تباہ کن ہوں
گے
شارک کی خوراک بننے کی دھمکی، تہران کا دوٹوک پیغام، جنگی کشیدگی میں
مزید اضافہ
پیر، 30 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
تہران
سے سامنے آنے والے سخت اور غیر معمولی بیانات میں ایران نے امریکا کو واضح پیغام
دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ زمینی مداخلت کی صورت میں امریکی افواج کو تباہ کن اور
ذلت آمیز نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، اور خطے میں موجود فوجیوں کی سلامتی شدید
خطرے میں پڑ جائے گی
ایرانی
میڈیا کے مطابق خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان انراحیم ذوالفقاری نے خبردار
کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی کی تو اس کے فوجی خلیج فارس
میں شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے، انہوں نے امریکی قیادت کے ممکنہ فوجی
منصوبوں کو غیر حقیقت پسندانہ اور خطرناک قرار دیا
ترجمان
نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے
جزائر پر قبضے یا زمینی کارروائیوں کی دھمکیاں عملی طور پر ممکن نہیں اور ایسے
اقدامات امریکا کو ایک نئے اور پیچیدہ تنازع میں دھکیل سکتے ہیں
بیان
میں مزید کہا گیا کہ امریکی قیادت کے فیصلوں نے پہلے ہی خطے میں تعینات افواج کو
مشکلات میں ڈال دیا ہے، اور موجودہ صورتحال میں امریکی فوجی روزانہ کی بنیاد پر
خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، بعض مقامات پر انہیں اپنے اڈوں سے پسپائی اختیار کر کے
شہری علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے
انراحیم
ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ زمینی حملے کے لیے
مکمل طور پر تیار ہیں اور طویل عرصے سے ایسی صورتحال کا انتظار کر رہی ہیں، انہوں
نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت یا قبضے کی کوشش کی صورت میں حملہ آور افواج کو
گرفتاری، بھاری جانی نقصان اور مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا
انہوں
نے امریکی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کی تاریخ کا مطالعہ کرے اور ماضی میں
غیر ملکی مداخلت کاروں کے انجام سے سبق حاصل کرے، کیونکہ غلط فیصلے نہ صرف فوجی
نقصان بلکہ وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں
دفاعی
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس سخت مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی ایک
نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں بیانات کی شدت ممکنہ عملی تصادم کے خدشات کو
مزید بڑھا رہی ہے، اور کسی بھی غلط قدم کے دور رس اور سنگین نتائج برآمد ہو سکتے
ہیں
.png)
0 Comments