ہیڈ لائنز

ایٹمی خوف کی سیاست ڈومز ڈے بنکرز کی خبروں پر سوالات، ٹرمپ انتظامیہ پر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے الزامات

 





ایٹمی خوف کی سیاست
ڈومز ڈے بنکرز کی خبروں پر سوالات، ٹرمپ انتظامیہ پر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے الزامات

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے پس منظر میں بنکرز خریداری کی رپورٹس
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کو جواز دینے اور اندرونی دباؤ کم کرنے کی کوشش

جمعہ، 13 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے جس میں مبینہ ایٹمی خطرات اور ڈومز ڈے بنکرز کی خریداری کی خبروں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان خبروں کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے تاکہ امریکی عوام میں خوف پیدا کیا جا سکے اور جاری جنگی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔

حالیہ رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض عہدیداروں نے ممکنہ جوہری حملوں سے بچاؤ کے لیے خصوصی بم پروف بنکرز خریدے ہیں۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رون ہبارڈ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کابینہ کے دو ارکان نے ایسے بنکرز خریدے ہیں جو ڈرون حملوں، بیلسٹک میزائلوں اور ممکنہ جوہری جنگ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں اور بعض ناقدین کے مطابق اس نوعیت کی خبریں ایک بڑے سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔ ان کے بقول جب بھی عالمی سطح پر کوئی بڑی عسکری مہم یا جنگی حکمت عملی متعارف کروائی جاتی ہے تو اکثر عوامی سطح پر خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کی جاتی ہے تاکہ سیاسی قیادت کو زیادہ اختیارات اور عوامی حمایت حاصل ہو سکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے اندر اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ ایسے میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایٹمی خطرات اور بنکرز کی خریداری جیسے بیانات امریکی عوام کی توجہ اصل سیاسی اور عسکری سوالات سے ہٹانے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتے ہیں۔

بعض تجزیہ کار یہ مؤقف بھی پیش کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اس طرح کی اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہو سکتی ہے جس کے ذریعے جنگی اقدامات کے لیے اخلاقی اور سیاسی جواز پیدا کیا جائے۔ ان کے مطابق اس بیانیے کا مقصد امریکی عوام اور عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہو سکتا ہے کہ خطے میں فوری اور سخت فوجی اقدامات ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے ایران کی عسکری تیاری اور دفاعی حکمت عملی کو بھی عالمی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس حد تک مضبوط بنایا ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے نتائج کے بارے میں عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں اطلاعات، بیانات اور میڈیا رپورٹس کو احتیاط سے پرکھنا ضروری ہے کیونکہ عالمی سیاست میں اکثر بیانیے اور معلومات طاقت کے توازن اور سیاسی مفادات کے مطابق تشکیل دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی کم کرنا اور سفارتی راستوں کو ترجیح دینا ہی عالمی استحکام کے لیے زیادہ مؤثر راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close