عالمی سطح پر
ایران میں قیادت کے خلا پر دباؤ کے دعوے، بین الاقوامی میڈیا کی مفروضہ رپورٹ،
ایرانی آفیشل ذرائع نے تاحال کوئی سرکاری موقف پیش نہیں کیا
ہفتہ 7 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز
ویب ڈیسک
ایران میں
رھبرالمسلمین آیت اللہ خامنہ ای کی 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد سے
سپریم لیڈر کا انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے قیادت کے خلا اور غیر یقینی صورتحال کے
حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بعض عالمی خبررساں
ایجنسیوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں نئے سپریم لیڈر کے فوری انتخاب کے لیے عوام
اور خواص کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے اور سینئر علما نے اس کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے
مطابق معروف شیعہ مرجع تقلید گرینڈ آیت اللہ ناصر مکرم شیرازی نے کہا کہ ملک کے
امور کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے نئے سپریم لیڈر کا فوری تقرر ضروری ہے،
جبکہ بااثر گرینڈ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی مجلسِ خبرگان سے مطالبہ کیا کہ
وہ جانشین کے انتخاب کے عمل کو تیز کرے۔
تاہم یہ واضح رہے
کہ یہ بین الاقوامی رپورٹس مفروضہ نوعیت کی ہیں اور ایرانی آفیشل ذرائع یا مقامی
میڈیا نے اس سلسلے میں کوئی سرکاری موقف پیش نہیں کیا۔ ایران کی حکومت نے ابھی تک
اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے اور تمام فیصلے اور تقرر آئینی
ضابطوں کے تحت مجلسِ خبرگان رھبری کے اختیار میں ہیں۔
ایران کے آئین کے
مطابق سپریم لیڈر کی عدم موجودگی میں عارضی طور پر ایک تین رکنی کونسل اختیارات
سنبھالتی ہے جس میں صدر، ایک سینئر مذہبی عالم اور عدلیہ کے سربراہ شامل ہوتے ہیں۔
یہ کونسل تب تک ذمہ داریاں انجام دیتی ہے جب تک مجلسِ خبرگان نئے سپریم لیڈر کا
انتخاب نہیں کرتی۔ آئینی ضابطوں کے مطابق نیا سپریم لیڈر تین ماہ کے اندر منتخب
ہونا چاہیے، تاہم موجودہ جنگی صورتحال کی وجہ سے اجلاس کی تاریخ ابھی غیر واضح ہے۔
عالمی خبررساں
ایجنسیوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کا کردار
ہونا چاہیے، جسے ایران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دعوے ایران
کی خودمختاری اور آئینی ضابطوں کے حوالے سے مبالغہ آمیز ہیں اور اصل فیصلے اور
کارروائی ایران کی داخلی مجلسِ خبرگان کے تحت ہی ہوں گے۔
.png)
0 Comments