ہیڈ لائنز

امریکہ اپنی بحری گزرگاہ کھلوانے کے لیے چین سمیت دیگر طاقتوں سے مدد مانگنے پر مجبور,ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

 




امریکی اثر و رسوخ کو شدید دھچکا، آبنائے ہرمز کے معاملے پر واشنگٹن عالمی حمایت کی تلاش میں

ایران کا دعویٰ، امریکہ اپنی بحری گزرگاہ کھلوانے کے لیے چین سمیت دیگر طاقتوں سے مدد مانگنے پر مجبور

اتوار، 15 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

تہران
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے معاملے پر عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے لیے دیگر ممالک حتیٰ کہ China سے بھی مدد مانگنے پر مجبور ہو چکا ہے، جو خطے میں واشنگٹن کے کمزور ہوتے اثر و رسوخ کی واضح علامت ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں امریکہ کی قائم کردہ سکیورٹی چھتری اب مؤثر تحفظ فراہم کرنے کے بجائے خود عدم استحکام اور پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیورٹی نظام میں اتنے بڑے خلا پیدا ہو چکے ہیں کہ اس پر انحصار کرنے والے ممالک کو بھی اس کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

Strait of Hormuz کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے لیے کھلی ہے اور خطے کے امن و استحکام کے حوالے سے ایران اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس معاملے کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عسکری موجودگی کے اثرات کا ازسرِنو جائزہ لیں اور ایسے اقدامات کریں جو علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے مفاد میں ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں بعض طاقتوں کو صرف Israel کے مفادات کی فکر ہے جبکہ پورا خطہ اس کشیدگی کے اثرات بھگت رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ جمعے کے روز امریکہ کی جانب سے خلیجی خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں Ras Al Khaimah اور Dubai کے قریب علاقوں سے حملوں کی اطلاعات شامل ہیں۔ ان کے مطابق پڑوسی ممالک کی حدود سے ہائی موبیلیٹی راکٹ سسٹم استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے علاقائی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے اس گزرگاہ سے متعلق کسی بھی کشیدگی کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close