ہیڈ لائنز

اسلامی جمہوریہ ایران کی نئی قیادت کا فیصلہ قریب، مجلس خبرگان میں جانشین کے انتخاب پر وسیع اتفاقِ رائے کی اطلاعات

  


 

شہید رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کا عمل آخری مرحلے میں داخل، غیر معمولی حالا ت کے باعث حتمی اعلان میں احتیاط برتی جا رہی ہے 

جستجو نیوز
اتوار 8 مارچ 2026
 

تہران
ایران میں اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی منصب کے لیے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل انتہائی حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران کی طاقتور آئینی و مذہبی کونسل مجلس خبرگان کے ایک رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ شہید رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے معاملے پر ارکان کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے تقریباً طے پا چکا ہے۔

مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق مجلس خبرگان کے ارکان کے درمیان مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے اور قیادت کے تعین کے لیے درکار اتفاق رائے بڑی حد تک حاصل ہو چکا ہے، تاہم موجودہ غیر معمولی حالات کے باعث چند عملی اور انتظامی رکاوٹوں کو احتیاط کے ساتھ دور کیا جا رہا ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق ملک کے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگان کرتی ہے۔ یہ ادارہ ایران کے سیاسی و مذہبی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ریاست کے سب سے طاقتور منصب کے حامل رہنما کے انتخاب کی آئینی ذمہ داری اسی کونسل کے پاس ہے۔

ایران میں قیادت کے اس اہم مرحلے کی ضرورت اس وقت پیدا ہوئی جب شہید رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای تقریباً سینتیس برس تک ایران کی قیادت کرنے کے بعد 28 فروری کو تہران میں امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وسیع تر عسکری تصادم کے ابتدائی مرحلے میں پیش آیا جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے متعدد علاقوں میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔

اس دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک سخت انتباہ بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مجلس خبرگان کے ارکان نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کرتے ہیں تو اس اجتماع کو بھی ممکنہ ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد ایران کے اندر سکیورٹی خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں اور اسی وجہ سے قیادت کے انتخاب کے عمل میں غیر معمولی احتیاط برتی جا رہی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مجلس خبرگان کے ایک اور رکن حجت الاسلام جعفری نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کو جلد ہی اس تاریخی فیصلے کے بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق قیادت کے انتخاب میں تاخیر یقیناً عوامی سطح پر بے چینی پیدا کر سکتی ہے لیکن موجودہ حالات میں حکمت عملی اور صبر ضروری ہے۔

مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ موجودہ جنگی اور سکیورٹی حالات میں مجلس خبرگان کا روایتی اور کھلا اجلاس منعقد کرنا ممکن نہیں رہا۔ تاہم ان کے مطابق ارکان کے درمیان مشاورت کے بعد ایک ممکنہ امیدوار پر اتفاق ہو چکا ہے اور مناسب وقت پر اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں شہید رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی اس نصیحت کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے کہ ایران کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو دشمن قوتوں کے لیے خوف اور تشویش کا باعث بنے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں شہید رہبرِ معظم کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کے ممکنہ طور پر ایران کے نئے سپریم لیڈر بننے کے امکان پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس بیان کے بعد ایران کی داخلی سیاست اور قیادت کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سیاسی و تزویراتی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب نہ صرف ملک کی داخلی سیاسی سمت کا تعین کرے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی اور عسکری صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

ذرائع کے مطابق مجلس خبرگان کے اندر مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے تحت ایران کے نئے سپریم لیڈر کے نام کا باضابطہ اعلان جلد سامنے آ سکتا ہے۔

 

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close