تیل کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ،
عالمی منڈی دباؤ کا شکار، آبنائے ہرمز بحران نے معیشت کو ہلا دیا
خام تیل 109 ڈالر کے قریب، توانائی سپلائی خطرے میں، Donald
Trump کا نیٹو پر سخت ردعمل
جستجو نیوز رپورٹ
تاریخ: 21 مارچ 2026
دن: ہفتہ
مشرقِ
وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں خلل کے باعث عالمی منڈی میں
خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس نے عالمی معیشت کو شدید
دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
بین
الاقوامی توانائی ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت توانائی کے تحفظ کے ایک بڑے اور غیر
معمولی چیلنج کا سامنا کر رہی ہے، جہاں سپلائی میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی سطح پر
بڑے معاشی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
رپورٹس
کے مطابق خام تیل کی قیمت فی بیرل تقریباً 109 ڈالر کے آس پاس برقرار ہے، جو عالمی
منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کا
کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو یہ عالمی اقتصادی استحکام کیلئے سنگین
خطرہ بن سکتا ہے۔
کشیدگی
کی ایک بڑی وجہ Strait of Hormuz میں
پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی
ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی بندش یا خطرہ فوری طور پر عالمی منڈی کو
متاثر کرتا ہے۔
دوسری
جانب Donald Trump نے نیٹو اتحادیوں کے کردار
پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال کو کنٹرول کرنا ان
ممالک کیلئے ممکن ہے، مگر وہ عملی اقدام سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کے بیانات نے
اتحادیوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
معاشی
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور
پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کرے گا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی کی
نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
تجزیہ
کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف توانائی کے بحران بلکہ ایک وسیع تر معاشی
عدم استحکام کی جانب اشارہ کر رہی ہے، جہاں ہر نئی پیش رفت عالمی منڈیوں میں ہلچل
پیدا کر رہی ہے۔
تحقیق سے لیکر تصدیق تک جستجو نیوز
.png)
0 Comments