ہیڈ لائنز

یوگینڈا کی کھلی پیشکش، اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا اعلان

 



یوگینڈا کی کھلی پیشکش، اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا اعلان

آرمی چیف کا سخت مؤقف، خطے میں نئی صف بندیوں کا اشارہ، عالمی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

اتوار، 29 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

کمپالا سے آنے والی اہم پیش رفت میں یوگینڈا کی فوجی قیادت نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر غیر معمولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے، اور ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں براہِ راست شرکت کی پیشکش بھی سامنے آ گئی ہے

یوگینڈا کے آرمی چیف مہوذی کائنیروگابا نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور اگر حالات نے تقاضا کیا تو یوگینڈا کی افواج عملی طور پر جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل کو نقصان پہنچانے یا اسے شکست دینے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں یوگینڈا خاموش نہیں رہے گا بلکہ بھرپور ردعمل دے گا

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسرائیل کو کسی بھی سطح پر عسکری معاونت درکار ہوئی تو یوگینڈا کی فوج صرف ایک اشارے کی منتظر ہے اور فوری طور پر میدان میں اتر سکتی ہے، ان کا یہ بیان عالمی سفارتی حلقوں میں تیزی سے توجہ حاصل کر رہا ہے

واضح رہے کہ یوگینڈا کی فوج تقریباً پینتالیس ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے، جبکہ مہوذی کائنیروگابا ملک کے صدر یواری موسیوینی کے صاحبزادے بھی ہیں، اور وہ سوشل میڈیا پر اپنے بے باک اور بعض اوقات متنازع بیانات کے باعث اکثر عالمی خبروں کا حصہ بنتے رہے ہیں

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یوگینڈا کی جانب سے اس نوعیت کا اعلان نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ یہ اس بات کا عندیہ بھی دیتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع جغرافیائی حدود سے نکل کر عالمی طاقتوں اور دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید ممالک نے اس طرز کے اعلانات کیے تو خطے میں کشیدگی ایک وسیع تر تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سلامتی، معیشت اور سفارتی توازن پر گہرے مرتب ہوں گے

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close