مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے زور پر فیصلے ناقابل قبول، روس کا سخت مؤقف
امریکا عالمی توازن بگاڑ رہا ہے، خطے میں زبردستی معاہدے مزید عدم
استحکام پیدا کریں گے، روسی وزیر خارجہ
تاریخ 23 مارچ 2026
دن پیر
رپورٹ جستجو نیوز
ماسکو
سے جاری بیان میں روس کے وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے زور پر
معاہدے مسلط کرنے کی پالیسی نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ خطے کو مزید عدم استحکام کی
طرف دھکیل رہی ہے
انہوں
نے ایران کے خلاف امریکی اقدامات کے تناظر میں کہا کہ دنیا ایک بار پھر ایسے دور
میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں جبکہ کمزور ریاستیں
اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں
روسی
وزیر خارجہ کے مطابق امریکا کی خارجہ پالیسی میں توازن اور انصاف کی بجائے صرف
اپنے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے جس کے باعث عالمی نظام میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے
اور بین الاقوامی قوانین کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے
انہوں
نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں زبردستی فیصلے یا معاہدے نافذ
کرنا نہ صرف دیرپا امن کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ مزید کشیدگی اور تصادم کو جنم
دے سکتا ہے
سرگئی
لاروف نے توانائی کے عالمی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا توانائی کے
وسائل کے حصول کے لیے ایران اور وینزویلا جیسے ممالک میں دلچسپی لے رہا ہے جبکہ
یورپ کو سستی توانائی سے محروم کیا جا رہا ہے جس کے معاشی اثرات پہلے ہی سامنے آنا
شروع ہو چکے ہیں
انہوں
نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات
اور سفارتکاری میں ہے اور یہی راستہ خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے
بین
الاقوامی تناظر
ماہرین
کے مطابق روس کا یہ مؤقف عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طاقت کی سیاست کے خلاف ایک واضح
اشارہ ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے عالمی اصولوں کو نظر انداز کر رہی
ہیں ایسے میں سفارتکاری اور مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دنیا کو مزید بڑے تصادم سے
بچا سکتے ہیں

0 Comments