ہیڈ لائنز

ٹرمپو کی نئی بکواس چار ہفتوں میں جنگ بند ہوگی

 


 
ٹرمپ کا ایران جنگ جلد سمیٹنے کا اشارہ، 4 سے 6 ہفتوں میں تنازع ختم کرنے کی خواہش
امریکی صدر کی سفارت کاری اور دباؤ کی دوہری حکمت عملی، بیجنگ سمٹ سے قبل پیش رفت کی امید

جمعرات، 26 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو جلد ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس تنازع کو آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں سمیٹنے کے خواہش مند ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے گفتگو میں اس بات کا اظہار کیا کہ وہ جنگ کو طول نہیں دینا چاہتے اور ان کے خیال میں یہ تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مئی میں بیجنگ میں چینی قیادت کے ساتھ مجوزہ ملاقات بھی اسی تناظر میں طے کی ہے، جہاں امید کی جا رہی ہے کہ اس سے قبل کسی حد تک پیش رفت ہو چکی ہوگی۔ سفارتی حلقے اس ممکنہ سمٹ کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی توجہ بعض اوقات اندرونی سیاسی معاملات کی طرف بھی مبذول ہو جاتی ہے، جن میں وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن پالیسی جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جنگ ان کی دیگر ترجیحات سے توجہ ہٹا رہی ہے، جس کے باعث وہ جلد از جلد اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا ایک متوازن حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں ایک طرف مزید مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی تعیناتی کے ذریعے دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دوہرا انداز اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی اور عسکری دونوں آپشنز کو بیک وقت استعمال کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ ایرانی تیل تک امریکی رسائی کو بھی ممکنہ شرائط میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور اس تنازع کے فوری حل کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی ٹھوس معاہدہ یا فیصلہ کن پیش رفت نہ ہوئی تو آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم عالمی سطح پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

 

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close