45 روز پہلے سستا
خریدا گیا تیل مہنگے داموں فروخت ہونے کا دعویٰ، حکومتی مؤقف عالمی منڈی کی تیز
رفتار تبدیلیوں اور توانائی تحفظ کی حکمت عملی پر مبنی
ہفتہ 7 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز
اسلام آباد میں
پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے پس منظر میں ماہر معاشیات فرخ سلیم کی جانب
سے اٹھائے گئے سوالات نے ایک نئی معاشی بحث کو جنم دے دیا ہے جس کے بعد حکومت نے
بھی اس معاملے پر اپنا باضابطہ مؤقف پیش کر دیا ہے۔
ماہر معاشیات فرخ
سلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ دستیاب معاشی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً
پینتالیس روز قبل عالمی منڈی سے تقریباً ساٹھ ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا گیا
خام تیل اب پاکستانی صارفین کو تقریباً تین سو ستائیس روپے فی لیٹر کے نرخ پر
فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس فرق سے تقریباً ایک سو تیرہ ارب روپے کے قریب
انوینٹری منافع پیدا ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ سوال اہم ہے کہ یہ منافع آخر کس کے
حصے میں جا رہا ہے۔
اس بیان کے بعد
ملک میں پیٹرولیم قیمتوں کے تعین اور حکومتی پالیسی کے حوالے سے مختلف حلقوں میں
بحث تیز ہو گئی جس پر حکومت نے وضاحتی موقف پیش کیا ہے۔
وزیر مملکت برائے
خزانہ علی پرویز ملک نے اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ دو ہزار
چھبیس کو اعلان کردہ پیٹرولیم قیمتیں پندرہ روزہ اوسط عالمی نرخوں کی بنیاد پر
مقرر کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق اس وقت عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت تقریباً اٹھاسی
ڈالر فی بیرل جبکہ پیٹرول کی قیمت تقریباً اٹھہتر ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔
انہوں نے بتایا کہ
چھ مارچ تک عالمی توانائی منڈی میں صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی تھی اور
ڈیزل کی قیمت ایک سو انچاس ڈالر فی بیرل جبکہ پیٹرول کی قیمت ایک سو چھ ڈالر فی
بیرل سے تجاوز کر چکی تھی جس سے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا خدشہ مزید بڑھ
گیا ہے۔
وزیر مملکت کے
مطابق سعودی عرب کے صنعتی شہر یانبو سے پاکستان تک خام تیل کی ترسیل میں تقریباً
بیس دن لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت کے دوران ریفائنریوں کو اس بات کا
اعتماد ہونا ضروری ہوتا ہے کہ مہنگی قیمت پر خریدا گیا خام تیل مستقبل میں کسی نئے
مالیاتی بوجھ یا سرکلر ڈیٹ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔
انہوں نے وضاحت کی
کہ عالمی سطح پر غیر یقینی حالات کے دوران توانائی کا تحفظ حکومت کی اہم پالیسی
ترجیحات میں شامل ہے اور قیمتوں کو بروقت ایڈجسٹ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مارکیٹ
میں ذخیرہ اندوزی اور غیر ضروری خریداری کے رجحانات کو روکا جا سکے۔
علی پرویز ملک نے
کہا کہ کاروباری نظام میں انوینٹری منافع اور نقصان دونوں ایک معمول کا حصہ ہوتے
ہیں اور حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ محدود ریگولیٹری نگرانی کے ساتھ مارکیٹ کو اپنے
قدرتی انداز میں کام کرنے دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا
کہ ایران سے متعلقہ علاقائی کشیدگی کے باعث پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر ممکنہ
دباؤ کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں مارکیٹ میں غیر
ضروری حکومتی مداخلت سے گریز کرنا ضروری ہے کیونکہ دو ہزار بائیس جیسی صورتحال
دوبارہ پیدا ہونے کی صورت میں ملک کو مالیاتی عدم استحکام یا ڈیفالٹ کے خطرات کا
سامنا ہو سکتا ہے۔
وزیر مملکت نے
یقین دہانی کرائی کہ حکومت ذمہ دارانہ معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور جیسے ہی
عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئے گی اس کا براہ راست فائدہ عوام تک منتقل کیا
جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے
تاہم توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنا اور معیشت کو بحران سے بچانا بھی حکومتی
ترجیحات میں شامل ہے۔
.png)
0 Comments