امریکا
ایران کشیدگی پر پیشگوئی مارکیٹوں میں ہلچل، اربوں روپے کی بیٹنگ نے نئے سوالات
کھڑے کر دیے
ممکنہ
فوجی مداخلت پر عالمی توجہ، تجزیہ کاروں اور قانون سازوں میں تشویش بڑھنے لگی
منگل،
31 مارچ 2026
رپورٹ عرض سنجرانی
کراچی سے موصولہ
تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی
نے پیشگوئی مارکیٹوں کو غیر معمولی طور پر متحرک کر دیا ہے، جہاں ممکنہ امریکی
فوجی مداخلت پر اربوں روپے کی بیٹنگ ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آن
لائن پیشگوئی پلیٹ فارم Polymarket پر اب تک تقریباً 13 ارب
روپے سے زائد کی شرط لگائی جا چکی ہے کہ امریکی فوج 30 اپریل تک ایران میں داخل ہو
سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر
گردش کرنے والی معلومات کے مطابق ایران کے اہم تیل مرکز جزیرہ خارگ کو ممکنہ ہدف
کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بیٹنگ خطے
میں کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے
کہ ماضی میں عسکری پیش رفت کی درست پیشگوئی کرنے والے متعدد اکاؤنٹس ایک بار پھر
سرگرم ہو گئے ہیں، جس کے بعد ان مارکیٹوں کی ساکھ اور اثر و رسوخ پر بھی سوالات
اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی
قانون ساز کرس مرفی نے جنگی معاملات پر مالی شرط لگانے کے رجحان کو روکنے کے لیے
‘بیٹس آف ایکٹ’ پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد حساس عالمی معاملات کو تجارتی سرگرمی
بنانے سے روکنا ہے۔
ماہرین کے مطابق
اگرچہ پیشگوئی مارکیٹیں عوامی رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم انہیں حتمی حقیقت
تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود ان میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری عالمی سفارتی
اور عسکری ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جس نے پالیسی سازوں کو محتاط رویہ
اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
.png)
0 Comments