ہیڈ لائنز

ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، اسرائیلی صنعتی تنصیبات نشانے پر

 




ایران کا بڑا میزائل و ڈرون حملہ، اسرائیلی صنعتی تنصیبات نشانے پر

کیمیکل پلانٹس متاثر، خطے میں کشیدگی نئی بلندیوں پر، متعدد حملوں کی تصدیق

پیر، 30 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایران کی جانب سے اسرائیلی شہروں اور حساس صنعتی تنصیبات پر مربوط میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کے اہم صنعتی مراکز متاثر ہوئے ہیں

ایران کے پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق چار کی چھیاسیویں لہر کے دوران خطے کے مختلف مقامات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی و ڈرون انفرا اسٹرکچر اور ان کی افواج کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی علی الصبح متعدد مراحل میں انجام دی گئی جس میں ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے مشترکہ طور پر حصہ لیا

بیان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی اڈوں کے آپریشنل ڈھانچے اور اسلحہ ذخائر کو ہدف بنایا گیا، جن میں وکٹوریہ، عریفجان اور الخرج جیسے مقامات شامل بتائے گئے ہیں، جبکہ دیگر حملوں میں اراد، نقب نیگیو، تل ابیب، اربیل، امریکی پانچویں بحری بیڑے اور الظفرہ کے علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا

دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل میں قائم ایڈاما کیمیکلز پلانٹ اور ماختشیم صنعتی تنصیب میزائل حملوں سے متاثر ہوئی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی

اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق جنوبی صنعتی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی جہاں متعدد کیمیائی پلانٹس موجود ہیں، ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ ایرانی میزائل یا روکے گئے میزائل کے ملبے کے گرنے کے باعث پیش آیا، فائر بریگیڈ کی چونتیس ٹیمیں آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں

حکام نے نیوت ہوواب صنعتی زون کے قریب رہنے والے شہریوں کو گھروں میں رہنے، کھڑکیاں اور وینٹیلیشن بند رکھنے اور ایمرجنسی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، تاہم آٹھ سو میٹر سے زائد فاصلے پر موجود آبادی کے لیے فوری خطرہ ظاہر نہیں کیا گیا

اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ حملوں کے دوران متعدد میزائلوں کو دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا جبکہ کچھ ملبہ صنعتی علاقوں میں گرنے سے نقصان کا باعث بنا، فوج نے مزید حملوں کے امکانات کی بھی نشاندہی کی ہے

اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں چالیس مرتبہ سائرن بجے، جبکہ مختلف سمتوں سے آنے والے میزائلوں کے خلاف دفاعی نظام مسلسل متحرک رہا

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے نہ صرف جنگی حکمت عملی میں شدت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہیں کہ تنازع اب روایتی محاذوں سے نکل کر حساس صنعتی اور معاشی اہداف تک پھیل چکا ہے، جو خطے میں طویل المدتی عدم استحکام کا پیش خیمہ بن سکتا ہے

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close