ہیڈ لائنز

امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، خارگ جزیرے پر ممکنہ حملے کے ردعمل میں باب المندب بند کرنے کی دھمکی



 

امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، خارگ جزیرے پر ممکنہ حملے کے ردعمل میں باب المندب بند کرنے کی دھمکی
ایران کا سخت انتباہ، عالمی تجارت کی شہ رگ خطرے میں، مشرقِ وسطیٰ میں عسکری تناؤ شدت اختیار کرنے لگا

جمعرات، 26 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس کی تیل تنصیبات کے مرکز خارگ جزیرے پر کسی بھی قسم کی زمینی کارروائی یا قبضے کی کوشش کی گئی تو وہ عالمی تجارت کے نہایت اہم بحری راستے آبنائے باب المندب کو بند کرنے جیسے سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی عسکری مداخلت کی صورت میں ردعمل ایسا ہوگا جس سے امریکا کو دگنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس بیان کو خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے باب المندب کو عالمی تجارت کی ایک کلیدی گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی تجارت اس راستے سے گزرتی ہے، جس میں تیل کی ترسیل بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور بحری تجارت پر فوری اور گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ادھر یمن میں موجود ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں وہ ایران کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ماضی میں حوثی جنگجو بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، جس سے اس خطے کی سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس ہو چکی ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے تحت ہزاروں اضافی فوجیوں کی تعیناتی زیر غور ہے۔ تاہم امریکی قیادت نے فوری طور پر کسی بڑے زمینی آپریشن کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے ملک کی تقریباً نوے فیصد خام تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران کسی بھی حملے کو اپنی معاشی سلامتی کے خلاف براہِ راست اقدام تصور کرتا ہے۔

حالیہ بیانات اور عسکری تیاریوں نے نہ صرف خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی اور تجارت کے شعبوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

 

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close