ہیڈ لائنز

بیروت میں ایرانی سفارتخانے پر مبینہ حملہ، تہران کا سخت انتباہ

 



اسرائیل نے سفارتی حدود عبور کیں تو دنیا بھر میں اس کے سفارتخانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ

بدھ، 4 مارچ 2026 — جستجو نیوز

تہران / بیروت: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیروت میں اس کے سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوئی کارروائی ثابت ہوئی تو عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی سفارتی مشن پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی روایات کی سنگین خلاف ورزی ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر اسرائیل نے بیروت میں ایرانی سفارتخانے کو نقصان پہنچایا تو “دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانوں کو ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔” تہران نے اس امر پر زور دیا کہ سفارتی تنصیبات کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے اور ان پر حملہ ناقابلِ قبول ہوگا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود تہران نے کسی بھی ملک میں اسرائیلی سفارتی مراکز کو نشانہ نہیں بنایا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران دیگر ممالک کی خودمختاری اور سفارتی وقار کا احترام کرتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ اس کے اس طرزِ عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق موجودہ بیان خطے میں جاری تناؤ کے تناظر میں ایک واضح پیغام ہے کہ ایران اپنے سفارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی مشنز کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھا تو یہ تنازع کو علاقائی حدود سے نکال کر عالمی سفارتی بحران میں تبدیل کر سکتا ہے۔

تاحال اسرائیل کی جانب سے اس بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ویانا کنونشن کے تحت سفارتی تنصیبات کے تحفظ کی اہمیت ایک بار پھر موضوعِ بحث بن چکی ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں سفارتی محاذ پر بیان بازی تیز ہو رہی ہے، تاہم مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی فریق کی جانب سے سفارتی حدود کی پامالی وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close