ہیڈ لائنز

ایرانی میزائل خطرہ، اسرائیلی شہریوں کیلئے یونانی جزائر خریدنے کی غیر معمولی تجویز

 




 
ایرانی میزائل خطرہ، اسرائیلی شہریوں کیلئے یونانی جزائر خریدنے کی غیر معمولی تجویز
ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محفوظ پناہ گاہوں کا تصور، منصوبہ غیر حقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد

جمعرات، 26 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں اسرائیل میں ایک غیر معمولی تجویز نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس میں یونان کے غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کیلئے محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل کرنے کی بات کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز دی کہ یونان کے تقریباً چالیس غیر آباد جزائر حاصل کر کے انہیں ممکنہ جنگی حالات میں شہریوں کی منتقلی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے متبادل حفاظتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

اس تجویز کو ایک منفرد دفاعی تصور قرار دیا گیا جسے اسٹینر نے ’متبادل آئرن ڈوم‘ کا نام دیا، تاہم اس خیال کو جلد ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔

جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ارکان نے اس منصوبے کو غیر عملی اور ادارے کے دائرہ کار سے باہر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے باہر زمین خریدنے کے مجاز نہیں۔ اس مؤقف کے بعد اس تجویز پر پیش رفت رک گئی۔

ماہرین کے مطابق خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے غیر روایتی دفاعی اور حفاظتی تجاویز کو جنم دیا ہے، تاہم یونانی جزائر خریدنے کا منصوبہ اپنی نوعیت کے باعث خاصی توجہ حاصل کرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات میں ریاستیں اور پالیسی ساز غیر معمولی آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔

 

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close