امریکی حملوں میں
تہران کے آزادی اسپورٹس کمپلیکس تباہ، ایران نے فیفا سے موقف طلب کر لیا، عالمی
کھیلوں کی تنظیموں پر سوالیہ نشان
ہفتہ 7 مارچ 2026
رپورٹ جستجو نیوز
ویب ڈیسک
ایران نے امریکی فضائی حملوں میں اپنے فٹبال اسٹیڈیمز کو
نشانہ بنائے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی کھیلوں کی تنظیم فیفا سے اس
معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے
سوشل میڈیا پر حملے کے بعد تباہ شدہ آزادی اسپورٹس کمپلیکس کی تصاویر شیئر کیں اور
طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ وہی اسٹیڈیم ہے جسے نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کو حال ہی میں فیفا نے امن کا اعزاز دیا تھا۔
ایرانی وزارت
خارجہ نے سوال اٹھایا کہ فیفا یا انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اس معاملے پر کیا ردعمل
دیں گی اور عالمی کھیلوں کی تنظیمیں انسانی جانوں اور کھیلوں کے بنیادی مراکز کے
تحفظ کے حوالے سے اپنا موقف کب واضح کریں گی۔
یاد رہے کہ دسمبر
میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیفا کی جانب سے نیا متعارف کرایا گیا پیس پرائز دیا
گیا تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر جنگوں کے خاتمے اور امن قائم رکھنے کی کوششوں کا
اعتراف کرنا تھا۔ صدر ٹرمپ نے خود اپنی انتخابی مہم کے دوران امن کے لیے کوششوں پر
نوبیل امن انعام کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا اور متعدد عالمی رہنماؤں نے ان کی
نامزدگی کے لیے خطوط بھی کمیٹی کو ارسال کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق
امریکی حملوں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کے
لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی کھیلوں کی تنظیموں کے امن کے وعدوں اور اعزازات پر بھی
سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ایران کی جانب سے فیفا سے موقف طلب کرنا اس بات کا اشارہ
ہے کہ کھیل اور امن کے عالمی اصولوں کی پاسداری عالمی سطح پر کس حد تک کی جا رہی
ہے۔
.png)
0 Comments