ہیڈ لائنز

اسرائیل کا ایران کے خلاف نیا علاقائی اتحاد بنانے کا اعلان

 




اسرائیل کا ایران کے خلاف نیا علاقائی اتحاد بنانے کا اعلان

جستجو نیوز

بدھ، 1 اپریل 2026

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عندیہ دیا ہے کہ ایران سے درپیش خطرات کے مقابلے کے لیے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ ایک نیا اسٹریٹجک اتحاد تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی تعاون کو وسعت دینا اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانا ہے

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اپنے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل خطے میں نئے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا اتحاد قائم کر رہا ہے جو ایرانی اثر و رسوخ اور عسکری سرگرمیوں کا مؤثر جواب دے سکے، تاہم انہوں نے اس اتحاد میں شامل ممالک کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے علاقائی اتحادی اب اسرائیل کے لیے پہلے جیسا خطرہ نہیں رہے، لیکن اس کے باوجود ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جسے اسرائیل سنجیدگی سے لے رہا ہے

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری عسکری مہم کو مزید تیز کیا جائے گا اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیل اپنے سیکیورٹی اہداف حاصل نہیں کر لیتا

دوسری جانب اسرائیل نے فرانس کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے فرانسیسی دفاعی درآمدات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کیا ہے

اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ فرانس کی پالیسیوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے، جنہیں اسرائیل نے اپنے مفادات کے خلاف اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے

ترجمان کے مطابق وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت جاری کی ہے کہ فرانس سے دفاعی آلات کی خریداری کو مکمل طور پر روک دیا جائے اور متعلقہ فنڈز کو متبادل ذرائع یا اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون پر خرچ کیا جائے

اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ فرانس کے اقدامات نے نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعلقات کو متاثر کیا بلکہ اسٹریٹجک تعاون کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ فرانسیسی پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ فرانس براہ راست اسرائیل کو اسلحہ فراہم نہیں کرتا بلکہ بعض دفاعی آلات دیگر نظاموں کے ذریعے استعمال میں آتے ہیں

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئے اتحاد کی تشکیل کے اشارے خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور عالمی توجہ ایک بار پھر اس حساس خطے پر مرکوز ہو گئی ہے

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close