امریکی اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کا عزم، تہران پر حملوں میں اہم قیادت کی ہلاکت
علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی اطلاعات، ایران نے جرات، شجاعت اور مزاحمت کے تسلسل کا اعلان کر دیا
بدھ، 18 مارچ 2026
رپورٹ: جستجو نیوز
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایران پر مبینہ
امریکی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ملک کی اہم سیاسی اور سکیورٹی شخصیات ہلاک ہو
گئی ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے اور نہایت حساس مرحلے میں داخل
ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سینئر سیاسی رہنما علی لاریجانی کو
تہران میں ایک خفیہ مقام پر نشانہ بنایا گیا، جہاں جدید جنگی حکمت عملی کے تحت
فضائی حملہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انتہائی منظم اور خفیہ
انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی۔
ایرانی قومی سلامتی سے وابستہ حلقوں کی جانب سے جاری پیغامات
میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کے ساتھ اسے قومی قربانی قرار دیا گیا ہے، اور اس عزم کا
اظہار کیا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری، جرات اور مزاحمت کے راستے سے پیچھے
نہیں ہٹے گا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کی
پالیسی سازی اور خطے میں اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا،
جبکہ بعض حلقوں میں انہیں مستقبل کی قیادت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔
دوسری جانب ایک علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ
غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ وہ ملک کی اندرونی
سکیورٹی کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور ریاستی استحکام کے اہم ستون تصور
کیے جاتے تھے۔
ایرانی حلقوں کی جانب سے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے
ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدامات ایران کے عزم اور مزاحمتی پالیسی کو کمزور نہیں
کر سکتے۔ عوامی اور سرکاری بیانات میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک اپنی
خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن کو
متاثر کر سکتی ہے، جبکہ ممکنہ ردعمل کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی سفارتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور بڑی طاقتیں حالات پر گہری
نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تاحال ان حملوں کے حوالے سے باضابطہ بین الاقوامی تصدیق محدود
ہے، تاہم صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ چند دن خطے کے لیے انتہائی اہم
تصور کیے جا رہے ہیں۔
.png)
0 Comments