جستجو نیوز
اتوار 8 مارچ 2026
امریکی صدر کا
کہنا ہے کہ ایران کی جنگ میں امریکا پہلے ہی کامیاب ہو چکا، برطانیہ کے طیارہ
بردار جہازوں کی اب ضرورت نہیں
واشنگٹن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے حالیہ فوجی تعاون
کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا پہلے ہی
فتح حاصل کر چکا ہے اور اب برطانیہ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو
مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے
بعد شامل ہوں۔ انہوں نے برطانیہ کو کبھی عظیم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا
اس تعلق کو یاد رکھے گا۔
یہ بیان اس وقت
سامنے آیا ہے جب برطانوی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ جدید طیارہ بردار جہاز HMS Prince
of Wales کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ برطانیہ نے
امریکا کے ساتھ محدود دفاعی تعاون کی اجازت دی ہے، جس میں RAF Fairford اور بحرِ ہند میں واقع Diego Garcia کے فوجی اڈے شامل ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم
کیر اسٹارمر نے پارلیمنٹ میں کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں براہ
راست شامل نہیں ہو رہا بلکہ اپنے قومی مفادات اور شہریوں کے تحفظ پر توجہ دے رہا
ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ کی شرکت محدود دفاعی تعاون تک محدود ہے اور جنگی اقدامات
میں حصہ نہیں لے رہا۔
دوسری جانب
برطانیہ میں بھی امریکا کی ایران کے خلاف کارروائی پر مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک
حالیہ سروے کے مطابق برطانوی عوام کی بڑی تعداد اس جنگ کو غیر ضروری قرار دیتی ہے۔
لندن میں امریکی سفارت خانے کے باہر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، جس سے برطانوی حکومت
پر داخلی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق
امریکا اور برطانیہ کے درمیان اس نوعیت کے بیانات دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کو
ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکا اور اسرائیل 28 فروری سے ایران کے
خلاف مشترکہ فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیکورٹی تجزیہ
کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے برطانیہ کی فوجی مدد مسترد کرنے کا فیصلہ مشرقِ
وسطیٰ میں امریکا کی خودمختاری اور حکمت عملی کی واضح نشاندہی کرتا ہے اور اس سے
علاقائی سیاسی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
.png)
0 Comments