ہیڈ لائنز

یہود و ہنود گٹھ جوڑ کے سائے میں بھارتی معیشت دباؤ کا شکار

 




یہود و ہنود گٹھ جوڑ کے سائے میں بھارتی معیشت دباؤ کا شکار

خلیجی کشیدگی، توانائی بحران اور سرمایہ کاری میں کمی نے بھارت کے اقتصادی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا

منگل، 24 مارچ 2026
رپورٹ، جستجو نیوز

بھارت کی موجودہ خارجہ اور معاشی سمت ایک نئے دباؤ کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات براہ راست اس کی معیشت اور عوامی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق نریندر مودی کی اسرائیل کے ساتھ قریبی سفارتی ہم آہنگی اور ایران مخالف پالیسیوں نے بھارت کو ایک پیچیدہ جیوپولیٹیکل صورتحال میں دھکیل دیا ہے

بین الاقوامی جریدے The New York Times نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ خلیج میں جاری تنازع بھارت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ کشیدگی طویل مدت تک برقرار رہی تو بھارت کو توانائی کی سپلائی، مالی وسائل اور اقتصادی شرح نمو میں نمایاں دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت پہلے ہی گھریلو گیس کی قلت سے دوچار ہے جس کے باعث عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ صنعتی پیداوار بھی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے

مزید برآں خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارتی برآمدات اور ترسیلات زر کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ The New York Times کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً دس فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی واضح علامت ہے

دوسری جانب عالمی سرمایہ کاری ادارہ Goldman Sachs نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ برس بھارت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالیاتی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ نظریاتی قربت نے خارجہ پالیسی کو اقتصادی مفادات پر فوقیت دے دی ہے جس کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ توانائی بحران، مہنگائی میں اضافہ اور عوامی بوجھ میں مسلسل اضافہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتی ترجیحات میں توازن کی کمی پائی جا رہی ہے

موجودہ صورتحال میں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بھارت کو اپنی خارجہ حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے اقتصادی استحکام اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ ممکنہ مالی بحران سے بچا جا سکے

  

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close