آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تجارت کے لیے نیا راستہ
زیر غور
تیل کی ترسیل متاثر، جہاز جنوبی افریقا کے طویل
راستے کی طرف مائل، ماہرین کی وارننگ
تاریخ 23 مارچ 2026
دن پیر
رپورٹ جستجو نیوز
Strait
of Hormuz کی بندش کے بعد عالمی توانائی اور بحری تجارت
شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے جبکہ ماہرین نے متبادل راستوں کے حوالے سے اہم
انکشافات کیے ہیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی
ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
دیکھنے میں آ رہا ہے
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق جہاز رانی کی بڑی کمپنیاں اب مشرقِ
وسطیٰ کے روایتی راستوں سے گریز کرتے ہوئے جنوبی افریقا کے راستے Cape of Good Hope کے گرد طویل بحری سفر اختیار کرنے پر غور کر رہی ہیں
معروف تجزیہ کار پیٹر سینڈ کے مطابق آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی
صورتحال غیر یقینی ہے اور امکان ہے کہ رواں سال یہ راستہ مکمل طور پر محفوظ نہ رہے
جس کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے اپنانا پڑ سکتے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر اہم آبی گذرگاہیں جیسے Bab el-Mandeb اور
Suez Canal بھی خطرات سے خالی نہیں جہاں علاقائی کشیدگی
اور حملوں کے خدشات نے جہاز رانی کو متاثر کیا ہے
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک سال
تک عالمی بحری تجارت بڑے پیمانے پر کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے منتقل ہو سکتی ہے جو نہ
صرف سفر کو طویل بنائے گا بلکہ لاگت میں بھی نمایاں اضافہ کرے گا
عالمی اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متبادل طویل راستوں کے استعمال سے
عالمی سپلائی چین متاثر ہوگی جس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور ترسیل
میں تاخیر ناگزیر ہو جائے گی
یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے جہاں
توانائی، تجارت اور لاجسٹکس تینوں شعبے دباؤ کا شکار ہوں گے
.png)
0 Comments